உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہاراردواکاد می ہر ضلع میں صحافتی ورک شاپ کرائے گی : مشتاق احمد نوری

    پٹنہ: صحافت کے معیار میں بہتری کے لئے اردو صحافت پر اردو اکادمی میں صحافتی تربیتی پروگرام کرایا جائے گا، جس میں مختلف اخباروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔یہ بات سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے اس ضمن میں منعقدہ میٹنگ میں فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے بتائی۔

    پٹنہ: صحافت کے معیار میں بہتری کے لئے اردو صحافت پر اردو اکادمی میں صحافتی تربیتی پروگرام کرایا جائے گا، جس میں مختلف اخباروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔یہ بات سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے اس ضمن میں منعقدہ میٹنگ میں فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے بتائی۔

    پٹنہ: صحافت کے معیار میں بہتری کے لئے اردو صحافت پر اردو اکادمی میں صحافتی تربیتی پروگرام کرایا جائے گا، جس میں مختلف اخباروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔یہ بات سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے اس ضمن میں منعقدہ میٹنگ میں فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے بتائی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      پٹنہ: صحافت کے معیار میں بہتری کے لئے اردو صحافت پر اردو اکادمی میں صحافتی تربیتی پروگرام کرایا جائے گا، جس میں مختلف اخباروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔یہ بات سکریٹری اکادمی مشتاق احمد نوری نے اس ضمن میں منعقدہ میٹنگ میں فیصلے کی اطلاع دیتے ہوئے بتائی۔


      انہوں نے بتایا کہ بتایا کہ یہ پروگرام ہر دومہینہ پر کرایا جائے گا تاکہ سبھی اخبار کے صحافی اس میں شامل ہوسکیں۔انہوں نے بتایا کہ اس میٹنگ میں یہ طے پایا کہ بہارکی صحافت کو مزید دھاردار بنانے کے لئے متعدد صحافتی ورک شاپ کئے جائیں گے اور صحافت پر سمینار اور مذاکرے کا بھی انعقاد ہوگا، جس میں ہندوستان کی مختلف زبانوں کے صحافیوں کو مدعو کیا جائے گا۔


      اس میٹنگ میں متفقہ طورپر یہ فیصلہ کیاگیا کہ۔ اس تربیتی پروگرام میں پاور پوائنٹ پروجکشن کے ذریعہ بھی تربیت دی جائے گی اور جو صحافی کمپیوٹر سے نابلد ہیں انہیں بھی اردو اکادمی بغیر کسی معاوضہ کے کمپیوٹر سکھانے کا کام کرے گی تاکہ ان کی خدمات زیادہ مفید بن سکیں۔


      اکادمی کا صحافتی ورک شاپ مختلف اضلاع اور اس کے ڈویزنل ہیڈ کوارٹر میں بھی منعقد کیاجائے گا تاکہ دیہی علاقوں کے صحافیوں کو بھی اس کا پورا پورا فائدہ حاصل ہوسکے۔ صحافت اور اس کے فن پر ہونے والے سمینار اور مذاکرے میں بیرون بہارکے دیدہ ور صحافیوں کو بلایا جائے گا۔

      First published: