உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظفرپور میں گزشتہ 45 سال سے ٹین شیڈ میں چل رہا اردو پرائمری اسکول

    بہارکے مظفرپورشہرمیں کلیانی باڑا اردو پرائمری اسکول کی حالت دیکھ کرعوام اندازہ لگا سکتی ہیں کہ نتیش حکومت ریاست میں تعلیمی ترقی اوراقلیتوں کی فلاح وبہبود کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

    بہارکے مظفرپورشہرمیں کلیانی باڑا اردو پرائمری اسکول کی حالت دیکھ کرعوام اندازہ لگا سکتی ہیں کہ نتیش حکومت ریاست میں تعلیمی ترقی اوراقلیتوں کی فلاح وبہبود کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

    بہارکے مظفرپورشہرمیں کلیانی باڑا اردو پرائمری اسکول کی حالت دیکھ کرعوام اندازہ لگا سکتی ہیں کہ نتیش حکومت ریاست میں تعلیمی ترقی اوراقلیتوں کی فلاح وبہبود کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      مظفر نگر۔ بہارمیں تعلیمی ترقی کے حوالے سے نتیش حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں ۔ اس کی ایک زندہ مثال مظفرپورشہرکا کلیانی باڑا سرکاری اردو پرائمری اسکول ہے۔ اسکول گذشتہ 45برسوں سے ایک مسجد کی دیوارسے لگے ٹین شیڈ کے نیچے چل رہا ہے۔ بہارکے مظفرپورشہرمیں کلیانی باڑا اردو پرائمری اسکول کی حالت دیکھ کرعوام اندازہ لگا سکتی ہیں کہ نتیش حکومت ریاست میں تعلیمی ترقی اوراقلیتوں کی فلاح وبہبود کے معاملے میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔


      نتیش کمارکی تصویر والے اس بورڈ پر اسکول ایجوکیشن کے حوالے سے بہارحکومت کےعزائم اور دعوے تحریر ہیں ۔ یہ بورڈ بہار کے مظفرپورشہرمیں واقع کلیانی باڑا اردو اسکول میں لگا ہواہے۔  بورڈ پرصاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ بہار کے تعلیمی ڈھانچہ میں قابل قدربہتری آئی ہے۔ اس تحریرسے محسوس ہورہا ہے کہ ریاست میں پرائمری ایجوکیشن سے متعلق موجودہ صورت حال نتیش کمارکے لیے اطمینان بخش ہے۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ جس اسکول میں یہ بورڈ لگاہوا ہے خود اسی سکول کو اپنی عمارت میسر نہیں۔ اسکول کرائے کے مکان میں بھی نہیں بلکہ ایک مسجد کمیٹی کے رحم وکرم پرمسجد کے احاطے میں چل رہا ہے۔ گذشتہ پینتالس برسوں سے مسجد کی دیوارسے لگے ٹین شیڈ میں چلنے والے اس اسکول میں تقریباً 200 بچوں کا داخلہ ہوا ہے۔ لیکن جگہ کی تنگی کے سبب چند ہی بچے اسکول آتے ہیں ۔ ایک ہی شیڈ کے نیچے بچے اوراستاد بیٹھتے ہیں اوراسی شیڈ کے نیچے مڈ ڈے میل کاغلہ بھی رکھا جاتا ہے۔


       مظفرپورضلع کے محکمہ تعلیم نے شاید جگہ کی کمی کی وجہ سے ہی اسکول میں ٹیچربھی ایک ہی مقررکر رکھا ہے۔ ایک چھوٹے سے شیڈ کے نیچے ایک ٹیچر یکم سے پانچویں درجے تک کے بچوں کوپڑھا رہا ہے ۔ یہاں نہ توبیت الخلا کی سہولت ہے اورنہ ہی پینے کے پانی کی۔ پانی اوربیت الخلا کے بہانے بچے باآسانی جب چاہیں اپنے گھرچلے جاتے ہیں اورٹیچرانہیں ایسا کرنے سے روک بھی نہیں پاتے۔ اسکول ٹیچر کے مطابق انہوں نے اسکول کی اپنی جگہ اورعمارت کے لیے محکمہ کے افسران کو کئی بارخطوط روانہ کیے لیکن اب تک محرومی اورمایوسی کے سواکچھ ہاتھ نہیں آیا۔


      board


      کلیانی باڑامسجد کمیٹی نمازیوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظرمسجد کی توسیع کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مسجد کی توسیع کا کام شروع ہونے سے قبل کمیٹی چاہتی ہے کہ حکومت اسکول کوکسی دوسری جگہ منتقل کردے تاکہ بچوں کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ آئے اورمسجد کی توسیع بھی ہو جائے۔ اس بارے میں جب ای ٹی وی اردو نے مظفرپورضلع ایجوکیشن افسر ستیندر نارائن کنٹھ سے دریافت کیا توانہوں نے کہا کہ وہ مسجد کمیٹی سے بات کرکے جلد ہی کوئی راہ نکالیں گے۔

      First published: