உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bilkis Bano Case: بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی رہائی کو سپریم کورٹ میں چیلنج، ’ہم اس کا جائزہ لیں گے‘ CJI

    وہ جیل میں 15 سال سے زیادہ کا عرصہ مکمل کر چکے تھے۔

    وہ جیل میں 15 سال سے زیادہ کا عرصہ مکمل کر چکے تھے۔

    بلقیس بانو کیس (Bilkis Bano Case) کے 11 قصورواروں کو گجرات حکومت کی طرف سے دی گئی معافی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر سی جے آئی نے کہا کہ ہم اس پر غور کریں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Gujarat | Mumbai | Delhi | Karnataka | Telangana
    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) نے منگل کو کہا کہ وہ بلقیس بانو کیس کے 11 قصورواروں کو گجرات حکومت کی طرف سے دی گئی معافی کو چیلنج کرنے والی درخواست پر غور کرے گی۔ سپریم کورٹ منگل کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) پولیٹ بیورو ممبر سبحاشنی علی اور دو دیگر افراد کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔

      عمر قید کی سزا پانے والے گیارہ مجرم 15 اگست کو گودھرا سب جیل (Godhra sub-jail) سے باہر چلے گئے جب گجرات حکومت نے اپنی معافی کی پالیسی کے تحت ان کی رہائی کی اجازت دی تھی۔ وہ جیل میں 15 سال سے زیادہ کا عرصہ مکمل کر چکے تھے۔ ممبئی کی ایک خصوصی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی عدالت نے 21 جنوری 2008 کو بلقیس بانو کے خاندان کے سات افراد کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں بمبئی ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔

      بلقیس بانو کیس (Bilkis Bano Case) کے 11 قصورواروں کو گجرات حکومت کی طرف سے دی گئی معافی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا، جس پر سی جے آئی نے کہا کہ ہم اس پر غور کریں گے۔ سی جے آئی نے پیر کو عرضی گزار سے پوچھا کہ کیا یہ سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے مجرموں کو رہا کیا گیا تھا؟

      یہ بھی پڑھیں:


      درخواست گزار نے جواب دیا کہ نہیں! سپریم کورٹ نے حکومت کو اس پر غور کرنے کا اختیار دیا۔ بنچ جسٹس اجے رستوگی کی تھی۔ ہم معافی کو چیلنج کر رہے ہیں، سپریم کورٹ کے حکم کو نہیں!
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: