ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بی جے پی کے ریاستی صدر کا متنازع بیان ، جادوپور یونیورسٹی کی طالبات کو بتایا بے حیا

کلکتہ : جادو پور یونیورسٹی کو لے کر زعفرانی گروپ کے لیڈروں کے متنازع بیان کے درمیان آج بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے انتہائی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جادو پور یونیورسٹی کی طالبات بے شرم ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: May 14, 2016 11:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی جے پی کے ریاستی صدر کا متنازع بیان ، جادوپور یونیورسٹی کی طالبات کو بتایا بے حیا
کلکتہ : جادو پور یونیورسٹی کو لے کر زعفرانی گروپ کے لیڈروں کے متنازع بیان کے درمیان آج بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے انتہائی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جادو پور یونیورسٹی کی طالبات بے شرم ہیں ۔

کلکتہ : جادو پور یونیورسٹی کو لے کر زعفرانی گروپ کے لیڈروں کے متنازع بیان کے درمیان آج بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے انتہائی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ جادو پور یونیورسٹی کی طالبات بے شرم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طالبات نے جنسی زیادتی کے بے بنیاد الزامات عاید کیے ہیں ۔ گھوش نے کہا کہ طالبات نے لڑکوں کے اشارے پربی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے حامیوں پر جنسی زیادتی کے الزاما ت عاید کیے ہیں ۔

پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے دلیپ گھوش نے کہا کہ جادو پور یونیورسٹی میں گزشتہ ہفتہ بدھا ان ٹریفک جام کی فلم کی اسکریننگ کے بعد ہنگامہ آرائیوں کے درمیان اے بی وی پی کے حامیوں نے طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ان طالبات کو اپنی عزت و عصمت کی اتنی پرواہ ہے تو وہ پھر یونیورسٹی کیوں جاتی ہیں ۔

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھگوا بریگیڈ کی جانب سے جادو پور یونیورسٹی کی طالبات کے خلاف غیر اخلاقی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ، بلکہ پیر کے دن جا دو پوریونیورسٹی کے طلبہ کی ریلی کے جواب میں اے بی وی پی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ای بی وی پی کے سیکریٹری سبیر ہلدار نے جادو پور یونیورسٹی کے طلبہ کا پاؤں کاٹ دینے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں ملک مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جا ئے گا ۔

اس کے علاوہ اے بی وی پی کے ایک لیڈر سومن دتہ نے جنسی زیادتی کے الزام پر کہا کہ جادو پوریونیورسٹی کی طالبات کھلے عام بوس و کنار کرتی ہیں اور انہیں شرم بھی نہیں آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ لڑکیا ں یہ سب روزانہ کرتی ہیں اور آج یہ الزام عاید کررہی ہیں۔ سومن دتہ نے کہا کہ یونیورسٹی کی طالبات ڈرامہ کررہی ہیں ۔یہ تنگ کپڑے پہنتی ہیں ، انڈر گارمنٹ کپڑے پہن کر یہ کامریڈ جسمانی تعلقات کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں انہیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کل جب وہ والدین ہوں گے ، تو کیا اپنے بچوں کو کھلے عام اس طری کی حرکتیں کرنے دیں گے ۔

خیال رہے کہ فلم میکر وویک انگی ہوتری کی فلم بدھا ان ٹریفک جام فلم کی یونیورسٹی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر پلے گراؤنڈ میں اسکریننگ کی گئی ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے ہوتری کو کالے جھنڈے دکھلائے اور جوابی کارروائی میں مظفر نگر فسادات پر مبنی فلم کی نمائش کی گئی ۔اس درمیان یونیورسٹی کے طلبہ اور اے بی وی پی اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی ، جس میں یونیورسٹی کی طالبات کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی ۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اے بی وی پی کے چار حامیوں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے ۔

اس تنازع کے بعد سے ہی جادو پور یونیورسٹی بی جے پی لیڈروں کے نشانے پر ہے ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے اس سے قبل بھی جا دو پوریونیورسٹی کو ملک مخالف عناصر کی آماجگاہ قرار دے چکے ہیں ۔
First published: May 14, 2016 08:04 PM IST