ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

رمضان میں عبادت میں مصروف، "بنگا بھوشن ایوارڈ" لینے نہیں پہنچنے بیٹا کھونے والے امام مولانا راشدی

مغربی بنگال حکومت کی جانب سے "بنگا بھوشن ایوارڈ" لینے مولانا امام مولانا امداد اللہ راشدی رشیدی نہیں پہنچے۔ مولانا نے کہا کے رمضان کے مقدس اور مبارک مہہنے میں وہ کولکاتا کا سفر کرنے میں قاصر ہیں۔

  • Share this:
رمضان میں عبادت میں مصروف،
مغربی بنگال حکومت کی جانب سے "بنگا بھوشن ایوارڈ" لینے مولانا امام مولانا امداد اللہ راشدی رشیدی نہیں پہنچے۔ مولانا نے کہا کے رمضان کے مقدس اور مبارک مہہنے میں وہ کولکاتا کا سفر کرنے میں قاصر ہیں۔

کلکتہ: مغربی بنگال  حکومت کی جانب سے "بنگا بھوشن ایوارڈ"  لینے مولانا امام مولانا امداد اللہ راشدی رشیدی  نہیں پہنچے۔ مولانا نے کہا کے رمضان کے مقدس اور مبارک  مہہنے میں وہ کولکاتا کا سفر کرنے میں قاصر ہیں۔


مولانا نے کہا کے رمضان عبادت کامہینہ ہے اور وہ اس میینے میں عبادت کے علاوہ دوسری کسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوسکتے۔  اس لئے وہ بنگال حکومت کی جانب سے ایوارڈ لینے نہیں جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ آسنسول فساد میں مولانا امداد اللہ راشدی نے جواں سال بیٹے کو کھودیا تھا۔ تاہم انہوں عوام سے امن کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میرے بیٹے کی وجہ سے تشدد بھڑکا تو میں شہر چھوڑ کر چلاجاوں گا اور کبھی نہیں لوٹوں گا۔


اس پورے معاملے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ان کے عزم اور حوصلے کو سراہتے ہوئے مولانا کی امن اپیل سے متاثر ہو کر کیا ہے ا نہیں بنگا بھوشن ایوارڈ سے سرفراز کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم رمضان کی وجہ سے وہ اسے حاصل نہیں کرسکے۔  آج ہی ممتا بنرجی نے آشابھونسلے کو ایوارڈ سے نوازا ہے۔

دراصل امام مولانا راشدی کے بیٹے صبغۃ اللہ راشدی نے فساد سے چند دنوں قبل دسویں بورڈ کا امتحان دیا تھا۔ وہ فساد کے دن سے لاپتہ ہوگیا تھا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ فسادیوں کی بھیڑ نے اسے اغواکیا تھا۔ایک دن بعد اس کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ یہ شناخت ہونے پر کہ یہ مسجد کے امام مولانا امداد اللہ کے بیٹے صبغۃ اللہ کی لاش ہے، اس کے بعد سے ہی آسنسول کے مسلم محلوں میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ یہ کشیدگی بڑے فساد میں تبدیل ہوسکتی تھی ۔ لیکن موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امام صاحب نے بروقت مداخلت کی اور آگے بڑھ کر عوام سے امن کی اپیل کرکے ان کے غصہ کو ٹھنڈا کیا اور ملک کے لئے ایک نئی مثال پیش کی ۔

 
First published: May 21, 2018 10:41 PM IST