ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات میں ذات پات کی سیاست عروج پر ، ووٹروں کو راغب کرنے میں سیاسی پارٹیاں مصروف

بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر روز نئے نئے اتحاد کا وجود ہورہا ہے ۔ ادھر تمام سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو رجھانے میں لگی ہوئی ہیں ۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات میں ذات پات کی سیاست عروج پر ، ووٹروں کو راغب کرنے میں سیاسی پارٹیاں مصروف
بہار اسمبلی انتخابات میں ذات پات کی سیاست عروج پر ، ووٹروں کو راغب کرنے میں سیاسی پارٹیاں مصروف

بہار اسمبلی انتخابات کو لے کر روز نئے نئے اتحاد کا وجود ہورہا ہے ۔ ادھر تمام سیاسی پارٹیاں ووٹروں کو رجھانے میں لگی ہوئی ہیں ۔ سب سے پہلے بات برسر اقتدار پارٹی کی تو این ڈی اے میں شامل پارٹیوں نے ریاست کے تمام طبقوں کو خوش کرنے کی قواعد شروع کردی ہے ۔ سبھی ذاتوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کا دعوی کر کے ووٹروں کو راغب کرنے کی حکمت عملی پر کام چل رہا ہے ۔ جے ڈی یو نے اپنے امیدواروں کی فہرست میں سبھی ذات کے لوگوں کو نمائندگی دینے کی کوشش کی ہے ۔ گیارہ مسلم امیدواروں کو بھی میدان میں اتارا گیا ہے ۔ وہیں بی جے پی نے دعوی کیا ہے کہ ہر طبقہ کی پارٹی میں نمائندگی ہوگی ۔ بی جے پی وزیراعظم نریندر مودی کی شخصیت کو کرشمائی شخصیت بتاتے ہوئے ان کے نام پر ووٹروں کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔


وہیں این ڈی اے سے باہر نکلی ایل جے پی نتیش کمار کی پالیسی کو بہار کی خستہ حالی کی وجہ مانتی ہے ۔ ایل جے پی نے نتیش کمار کو ناکام وزیر اعلی بتا کر جے ڈی یو کے امیدواروں کو ٹکر دینے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ وہیں بی جے پی نتیش کمار کو وکاس پروش بتا کر ان کی قیادت میں انتخابات کی جنگ کو فتح کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔


ادھر عظیم اتحاد لگاتار نتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے ۔ حالانکہ عظیم اتحاد اپنی ہی اتحادی پارٹی کو الائنس میں بنائے رکھنے میں ناکام رہا ہے ۔ عظیم اتحاد سے جیتن رام مانجھی نکل کر این ڈی اے کا حصہ بن گئے ہیں ۔ وہیں وی آئی پی پارٹی تیجسوی یادو کی تعریف کا پل باندھتے باندھتے این ڈی اے میں شامل ہوکر وزیر اعظم کا قصیدہ پڑھ رہی ہے ۔ جبکہ آر ایل ایس پی نے اسد الدین اویسی کے الائنس میں شامل ہوکر عظیم اتحاد کو کٹگھرے میں کھڑا کرنا شروع کردیا ہے ۔


آج چھ پارٹیوں پر مشتمل اسد الدین اویسی کی پارٹی نے گرانڈ ڈیموکریٹک سیکولر فرنٹ بناکر کر اوپیندر کشواہا کو وزیر اعلی کا امیدوار بنایا ہے ۔ پپو یادو نے پی ڈی اے نام کا الائنس بنایا ہے ۔ وہیں یونائیٹڈ ڈیموکریٹک الائنس بناکر اشفاق رحمان اور یشونت سنہا تال ٹھوکتے نظر آرہے ہیں ۔

سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہر پارٹی ذات پات کے رنگ میں ووٹروں کو رنگ کر اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔ اب دس نومبر کو عوام کس کو بہار کا تاج سونپتے ہیں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 08, 2020 09:57 PM IST