ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سفر حج کو آسان اور سستا بنانے کیلئے مرکزی حج کمیٹی ہر ممکن کوشش کرے گی : سلطان احمد

حج کمیٹی آف انڈیا کے نائب صدر سلطان احمد نے اس سال حج کے موقع پر سعودی حکومت کے ذریعہ کیے گئے انتظامات کومثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودیہ نے حجاج کرام کیلئے’سب سے بہترین اور سب سے وسیع انتظامات کیا تھا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 23, 2016 04:37 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سفر حج کو آسان اور سستا بنانے کیلئے مرکزی حج کمیٹی ہر ممکن کوشش کرے گی : سلطان احمد
خیال رہے کہ گزشتہ مہینے 4ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے سابق ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد کا انتقال ہوگیا تھا۔

کلکتہ : حج کمیٹی آف انڈیا کے نائب صدر سلطان احمد نے اس سال حج کے موقع پر سعودی حکومت کے ذریعہ کیے گئے انتظامات کومثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودیہ نے حجاج کرام کیلئے’’سب سے بہترین اور سب سے وسیع انتظامات کیا تھا ۔ بالخصوص سیکوڑٹی نظام،طبی سہولیات اور ٹریفک انتظامات کافی بہتر تھے اور یہ سعودی حکومت کے خدمت کے جذبے اور ان کی لگن کا عظیم مظہر ہے۔

سابق مرکزی وزیر و ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد جو کل ہی حج بیت اللہ کی ادائیگی کے بعدہندوستان واپس پہنچے ہیں ،نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس سال ہندوستانی حجاج کرام کو مدینہ منورہ میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حرم مدنی سے کافی دور ہوٹل کرایہ پر لیے گئے جس کی وجہ سے حجاج کرام کو آمدو رفت میں مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔انہوں نے کہا کہ حج کمیٹی آف انڈیا اس معاملے کی جانچ کرائے گی اوراس کے لئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی جائے گی۔

سلطان احمد نے کہا کہ حرم مکی کی توسیع ایک حد تک مکمل ہوچکی ہے اور مطاف کا مقا م بھی وسیع ہوچکا ہے اس لئے ہم اگلے حج سیزن کیلئے حکومت سعودیہ عربیہ سے مطالبہ کریں گے کہ ہندوستان کے کوٹے میں اضافہ کیا جائے ۔کیوں کہ ہرسال ہزاروں حج کے متمنی حج کی سعادت حاصل کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں ۔

خیال رہے کہ اس سال حج کمیٹی آف انڈیا کے زیر انتظام 100,000سے زاید حجاج کرام نے حج کی سعادت حاصل کی ہے جب کہ ہندوستان سے کم و بیش 135,000 افراد نے فریضہ حج کی ادائیگی کی ہے۔حج کمیٹی کے زیر انتظام 100,020افراد نے حج کیا جب کہ بقیہ افراد پرائیوٹ ٹور آپریٹروں کے ذریعہ حج کی سعادت حاصل کی۔حرم مکی میں تعمیراتی کاموں کی وجہ سے ہندوستان کوسعودی عرب نے 135,00افراد کا کوٹہ دیا ہے جب کہ ہندوستان کاکل کوٹہ 170,000ہے۔

حج انتظامات کی ذمہ دار ی کس کے پاس رہے؟وزارت اقلیتی امور کے پاس یا وزارت خارجہ کے پاس اس بحث پر براہ راست کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے حج کمیٹی آف انڈیا کے نائب صدر سلطان احمدنے کہا کہ حج انتظامات ایک وسیع عمل ہے ۔اس میں کئی اداروں کا اشتراک ضروری ہوتا ہے ۔اس لیے ان اداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کیے بغیر حج کے سفر کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

سلطان احمد نے کہا کہ اصل ضروری حج کے سفر کو آسان بنانا ہے تاکہ ہندوستانی شہری پورے سکون و اطمینان سے عظیم فریضہ کی ادائیگی کرسکے ۔ انہوں نے کہا کہ حج امور میں وزارت خارجہ،جدہ میں ہندوستانی قونصل اور حج کمیٹی آف انڈیا و ریاستی حج کمیٹیاں اور ائیر انڈیا جیسے اہم اداروں کا رول ہوتا ہے ۔ان اداروں کے درمیان بہتر تال میل سے ہی ہم حج انتظامات کو بہتر بنا یا جاسکتا ہے ۔اورجب بھی تال میل کی کمی ہوتی ہے تو ہمیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے ذمہ داری طے کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ منورہ میں معاہدے کے تحت حرم کے قریب ہوٹلوں کو کرایہ پر نہیں لیا گیا ہے ۔اس کیلئے کون لوگ ذمہ دار ہیں اور کہاں پر غلطی ہوئی اس کی نشاندہی ضروری ہے۔ سلطان احمد نے کہا کہ ہر سال لاکھوں افراد دنیا کے مختلف ممالک سے حج کیلئے آتے ہیں ۔ان کی ز بانیں اور کلچر مختلف ہوتی ہیں ۔ان کو ضابطہ کا پابند بنانا اور ان تک اپنی بات پہنچانا چیلنج سے بھرا کا م ہے مگر سعودیہ حکومت اور غیر سرکاری فلاحی تنظیمیں حجاج کرام کی خدمت کے جذبے کے تحت ان امور کو انجام دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال کوئی حادثہ نہیں ہوااور سعودی عرب حکومت نے گزشتہ سال منٰی میں رمی جمرات کے وقت ہوئے بھگڈر میں سینکڑوں افراد کی موت سے سبق حاصل کیا ہے اور انتظامات میں مزید بہتری لائی ہے۔انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن العزیز اس وسیع ترین انتظامات کیلئے مبارک باداور شکریہ کے مستحق ہیں ۔
First published: Sep 23, 2016 04:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading