ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

شمالی 24 پرگنہ : فرقہ وارانہ جھڑپ کے بعد مسلمان نقل مکانی پر مجبور ، 50 سے زیادہ زخمی ، 100 سے زائد دکانیں نذر آتش

مغربی بنگال کے شمالی 24پرگنہ کے بارکپور کے تحت حاجی نگر مارواڑی علاقہ میں گزشتہ کئی دنوں سے فرقہ وارانہ جھڑپ جاری ہے جس میں50سے زائد افراد زخمی ،100سے زائد دوکانیں نذر آتش اور درجنوں مکانات کو تباہ کردیا گیا ہے

  • UNI
  • Last Updated: Oct 16, 2016 10:45 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شمالی  24 پرگنہ : فرقہ وارانہ جھڑپ کے بعد مسلمان نقل مکانی پر مجبور ، 50 سے زیادہ زخمی ، 100 سے زائد دکانیں نذر آتش
مغربی بنگال کے شمالی 24پرگنہ کے بارکپور کے تحت حاجی نگر مارواڑی علاقہ میں گزشتہ کئی دنوں سے فرقہ وارانہ جھڑپ جاری ہے جس میں50سے زائد افراد زخمی ،100سے زائد دوکانیں نذر آتش اور درجنوں مکانات کو تباہ کردیا گیا ہے

کلکتہ : مغربی بنگال کے شمالی 24پرگنہ کے بارکپور کے تحت حاجی نگر مارواڑی علاقہ میں گزشتہ کئی دنوں سے فرقہ وارانہ جھڑپ جاری ہے جس میں50سے زائد افراد زخمی ،100سے زائد دوکانیں نذر آتش اور درجنوں مکانات کو تباہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے کی مسلم بستیاں خوف و ہراس کے ماحول میں ہیں۔لوگ اپنے اپنے گھر چھوڑ کر مسلم اکثریتی علاقے یا پھر کلکتہ شہر میں پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔  اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین دنوں سے یہاں مسلسل بم پھینکنے ، دوکانوں کو آگ لگانے اور گھروں کے لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے ۔ کل دوپہر بھی پولس اور فسادیوں کے درمیا ن جھڑپ بھی ہوئی جس میں پولس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی خبر ہے ۔


حاجی نگر کے رہنے والے جمشید نامی ایک شخص نے بتایا کہ گزشتہ تین دنوں سے ہم لوگ خو ف و ہراس کے ماحول میں ہیں ۔ہمارے گھروں پر حملے ہورہے ہیں مقامی تھانہ مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے ۔عوامی نمائندے بھی ہماری مدد نہیں کرپارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری مدد کرنے کو آئے میونسپلٹی کے چیر مین اشوک چٹرجی پر بھی حملہ کیا گیا ہے جس میں وہ زخمی ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آج علاقے میں پولس فورسیس کے تعینات ہونے کے بعد حالات کنٹرول میں ہیں مگر اس کے باوجود پورے علاقے میں خو ف و ہراس کاماحول ہے۔


ڈاکٹر شفیق انصاری کے دونوں پاؤں کاٹ دیئے اور انھیں نیم مردہ کرکے چھوڑ کر بلوائی فرار ہوگئے تھے۔ آج ان کی موت ہوگئی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس فساد کے پیچھے فارورڈ بلاک کے ایک لیڈر جن کے دونوں بیٹے اب آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ ہیں اور سیمنٹ و بالو کی سپلائی کام کرتے ہیں ان کا ہاتھ ہے۔  ملی اتحاد پریشد کے جنرل سکریٹری عبدالعزیز نے بتایا کہ محرم کی دسویں تاریخ کو بارکپور کے تحت حاجی نگر کے مارواڑی کل محلہ کے مسلمان محرم کا جلوس نکالنے پر فساد کے خدشہ کی وجہ سے راضی نہیں تھے مگر پولس کے زور دینے پر عاشورہ کے دن محرم کا جلوس نکلا جس پر بلوائیوں نے پولس کی موجودگی میں آٹھ بم پھینکے جس کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی اور تقریباً چالیس پچاس آدمی زخمی ہوگئے۔


رات بھر فسادی مسلمانوں کے گھروں، دکانوں کو نذر آتش کرتے رہے۔ سکریٹری پریشد نے کہاہے کہ گزشتہ روز صبح کے وقت حاجی نگر، مارواڑی کل اور بارکپور سے لوگوں نے فون کرکے سارے حالات سے آگاہی دی۔ بتایا کہ رات بھر بم بازی ہوتی رہی۔ مسلمان خوف و ہراس کے سایہ میں رہے اور ادھر ادھر پناہ لینے کی کوششیں کرتے رہے۔

اس وقت کھردا، کانکی نارہ، حاجی نگر، چندن نگر، بارکپور وغیرہ سے مسلمانوں کے لگاتار فون آرہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ لگ بھگ مسلمانوں کے سوسے زائد گھر جلا دیئے گئے اور دکانیں بھی تباہ و برباد کر دی گئیں۔ تقریباً پانچ سو بوڑھے مرد، عورت بچے اپنے اپنے گھروں سے کسی صورت میں نکل کر مسلمانوں کے اکثریتی علاقہ میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بہت سے لوگ کلکتہ اپنے رشتہ داروں کے گھر آگئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ بند طریقے سے کیا جارہا ہے۔پوجا سے قبل مقامی افراد کی میٹنگ میں ہی اس تشویش ک اظہار کیا گیا تھا کہ کچھ لوگ یہاں فساد کرسکتے ہیں مگر اس وقت مقامی انتظامیہ نے اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا ۔ مارواڑی کل علاقے سے آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے دوافراد بی جے پی کے ٹکٹ پر کونسلر ہیں اس کی وجہ سے اس علاقے میں آر ایس ایس کے اثرات ہیں ۔جمشید جوحاجی نگر میں تاجروں کے سمیتی کے جنرل سیکریٹری ہیں نے بتایا کہ مقامی سے زیادہ باہری لوگ یہاں آئے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعہ حملہ کیاجارہا ہے۔

واضح رہے کہ پوجاکی مورتیوں کے بھسان اور محرم کے جلوس کے درمیان مغربی بنگال کے کئی مقامات پر جھڑپ ہوئے ہیں ۔کل ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف مغربی بنگال پولس (لا اینڈ آرڈر)منوج شرما نے کہا تھا کہ یہ معمولی واقعات ہیں اس کو فساد کا نام دینا مناسب نہیں ہے۔اس طرح کے واقعات ہرسال رونما ہوتے ہیں اور حالات معمول پر آجاتے ہیں ۔جب کہ سی پی ایم کے ریاستی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سوریہ کانت مشرا نے ممتا بنرجی پر فرقہ وارانہ یکجہتی کا ماحول برقرار نہیں رکھنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ ممتا بنرجی امن وامان قائم کرنے میں ناکام ہیں ۔انہوں نے بایاں محاذ کے دور میں بھی فرقہ واریت کو پھیلانے والوں کو برداشت نہیں کیا جا تا تھا۔
First published: Oct 16, 2016 10:39 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading