ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

پیسے نہیں تو علاج نہیں، کولکاتہ کے غیر سرکاری اسپتال کے اس روئیے نے کورونا متاثرہ خاتون کی لے لی جان 

کورونا سے متاثر خاتون مریضہ کی موت کے واقعے نے ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔ کولکاتا میں کورونا سے متاثر خاتون کی صرف اسپتال میں پیسے جمع نہ کرانے کی وجہ سے ایمبولینس میں ہی موت ہو گئی۔

  • Share this:
پیسے نہیں تو علاج نہیں، کولکاتہ کے غیر سرکاری اسپتال کے اس روئیے نے کورونا متاثرہ خاتون کی لے لی جان 
کولکاتہ کے غیر سرکاری اسپتال کے اس روئیے نے کورونا متاثرہ خاتون کی لے لی جان 

کولکاتہ۔ کورونا بحران سے پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ ہر کسی کو اس بیماری سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جو لوگ اس بیماری سے متاثر ہو رہے ہیں وہ ذہنی و مالی پریشانیوں کا شکار ہیں۔ علاج کے نام پر بہت کچھ کئے جانے کے سرکاری دعوٶں کے باوجود ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو اس بیماری سے متاثر ہوکر کنگال ہو چکے ہیں۔ کولکاتا میں ایسے کئی معاملے دیکھنے کو ملے ہیں لیکن کورونا سے متاثر خاتون مریضہ کی موت کے واقعے نے ایک بار پھر انسانیت کو شرمسار کردیا ہے۔ کولکاتا میں کورونا سے متاثر خاتون کی صرف اسپتال میں پیسے جمع نہ کرانے کی وجہ سے ایمبولینس میں ہی موت ہو گئی۔


کولکاتہ کے سرکاری اسپتال میں بیڈ کی کمی کے باعث کورونا سے متاثر خاتون کو غیر سرکاری اسپتال میں لے جایا گیا لیکن اسپتال احاطے میں ایمبولینس میں موجود کورونا مریضہ کے گھر والوں کو اسپتال انتظامیہ نے پیشگی دس لاکھ روپئے جمع کرنے کی ہدایت دی۔ خاتون کے گھر والوں کے لئے اتنی بڑی رقم جمع کرنا مشکل تھا۔ گھر والوں نے اسپتال سے رقم کے انتظام کے لئے ایک گھنٹے کا وقت مانگا لیکن اس کے باوجود خاتون مریضہ کو اسپتال میں داخل نہیں کیا گیا۔ مریضہ ایمبولینس میں ہی پڑی رہی اور گھر والے رقم کے انتظام میں در در کی ٹھوکریں کھانے لگے۔ ایک گھنٹہ کا وقفہ خاتون کے لئے جان لیوا ثابت ہوا اور گھر والے جب رقم کا انتظام کرکے اسپتال پہنچے اور ایمبولینس سے خاتون کو باہر نکالا تب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ خاتون کی ایمبولینس میں ہی موت ہو گئی۔


گھر والے سکتے میں تھے۔ یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ اخر کیا انہوں نے دیر کردی۔ اگر وقت پر پیسے کا انتظام کر پاتے تو شاید خاتون کو بچایا جاسکتا تھا جبکہ اسپتال انتظامیہ ان تمام جذبے سے بے نیاز تھی جنکے سامنے ایک ہی سوال تھا پیسے نہیں تو علاج نہیں۔ اس واقعے نے سبھوں کو حیران کردیا ہے۔ بنگال ریگولیٹری کمیشن نے اس واقعے کو افسوسناک بتاتے ہوٸے اسپتال پر دس لاکھ کا جرمانہ عاٸد کیا ہے۔کمیشن کے چیرمین جسٹس (ریٹائرڈ) اشیم کمار بنرجی نے کہا کہ اصل میں تو اسپتال کا لائسنس رد کردینا چاہئے مگر اس وقت کئی مریض اس اسپتال میں داخل ہیں اس لئے ان حالات میں ہم کوئی بڑا قدم اٹھانا نہیں چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اسپتال کو دس لاکھ  روپے جرمانہ ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔


جسٹس بنرجی نے کہا کہ ہم نے پہلی مرتبہ کسی اسپتال کے خلاف نوٹس لیا کیوں کہ یہ غیرانسانی اور افسوس ناک واقعہ ہے۔ اس سے قبل کمیشن نے کہا تھا کہ پرائیویٹ اسپتال اسٹیمیٹ قیمت کا صرف 20فیصد ایڈوانس لے سکتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ 50ہزار روپے جمع کروا سکتے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 21, 2020 08:55 AM IST