ہوم » نیوز » No Category

سی پی آئی ایم ایل کی ریاستی اکائی کے اجلاس میں مودی اورنتیش حکومت پر نکتہ چینی

مظفرپور۔ سی پی آئی ایم ایل نے ملک کی مرکزی اورریاستی حکومتوں کواقلیتوں کے تئیں لاپروا قراردیا ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Oct 08, 2016 02:50 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سی پی آئی ایم ایل کی ریاستی اکائی کے اجلاس میں مودی اورنتیش حکومت پر نکتہ چینی
مظفرپور۔ سی پی آئی ایم ایل نے ملک کی مرکزی اورریاستی حکومتوں کواقلیتوں کے تئیں لاپروا قراردیا ہے۔

مظفرپور۔ سی پی آئی ایم ایل نے ملک کی مرکزی اورریاستی حکومتوں کواقلیتوں کے تئیں لاپروا قراردیا ہے۔ بہارکے مظفرپورمیں پارٹی کی ریاستی یونٹ کے اجلاس سے خطاب کے دوران پارٹی اعلیٰ کمان نے مودی اورنتیش حکومت کی جم کرنکتہ چینی کی۔  بہارکے مظفر پور میں سی پی آئی ایم ایل کی ریاستی یونٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ سچرکمیٹی کی سفارشات کے نفاذ میں

ملک کی مرکزی  اور ریاستی حکومتوں نے ایمانداری کا مظاہرہ کیا ہوتا توآج ملک کی سب سے بڑی اقلیت اس قدرکسمپرسی کا شکار نہ رہتی۔ انہوں  نے ملک میں بے قصورمسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اورملک کے مسلمانوں میں پائے جا رہے احساس عدم تحفظ کوملک کے جمہوری نظام کے لیے خطرناک قراردیا۔


دیپانکربھٹاچاریہ نے بی جے پی اورآرایس ایس پرالزام عائد کیا کہ وہ اپنے نظریات کوہی حب الوطنی کی کسوٹی تصورکرتے ہیں جبکہ ملک کی آبادی کے ہرطبقے نے اس سرزمین کے لیے قربانیاں پیش کی ہیں۔ سی پی آئی ایم ایل جنرل سکریٹری کے مطابق روہت ویمولا کے ساتھ جوکچھ ہواوہ صرف اس لیے نہیں کہ وہ ایک دلت طالب علم تھا۔ بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ویمولا نے ملک کے جمہوری نظام کونقصان پہنچانے والی حکومت کے فیصلوں اوراس کی پالیسیوں کے خلاف آوازیں اٹھانی شروع کردی تھیں۔


سی پی آئی ایم ایل نے مودی حکومت کے ساتھ بہارکی نتیش حکومت کی بھی سخت نکتہ چینی کی۔ سی پی آئی ایم ایل جنرل سکریٹری نے افسوس ظاہرکیا کہ نتیش کوجس طرح کا مینڈیٹ ملا انہوں نے اس مینڈیٹ کا پاس ولحاظ نہیں رکھا اوراقلیتوں کے معاملے میں نتیش بھی بہت اچھے ثابت نہیں ہوئے۔

First published: Oct 08, 2016 02:50 PM IST