ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کولکاتا میں گاندھی آشرم کے قریب ہوئے بم دھماکے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ

13 اکتوبر کی شام سات بجے کولکاتا کا بلیا گھاٹا علاقہ بم دھماکے سے دہل اٹھا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورے علاقے میں دھماکے کی گونج سنائی دی۔ گرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن بلیا گھاٹا کلب جہاں یہ دھماکہ ہوا تھا کلب کی پوری عمارت اس دھماکے سے تباہ و برباد ہو گئی

  • Share this:
کولکاتا میں گاندھی آشرم کے قریب ہوئے بم دھماکے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ
کولکاتا میں گاندھی آشرم کے قریب ہوئے بم دھماکے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ

کولکاتا کا گاندھی  آشرم جیسے حیدری منزل بھی کہا جاتا ہے، یہاں سے گاندھی جی نے امن و اتحاد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی و بھائی چارگی کا نعرہ دیا تھا۔ اسی گاندھی آشرم کے پاس ہوئے بم دھماکے نے کولکاتا شہر کی سیکورٹی پر سوال اٹھائے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ شہر کے اس اہم ترین علاقے میں یہ بم دھماکہ ہوا کیسے؟ وہ بھی ایسے وقت میں جب بنگال میں آئندہ سال اسمبلی الیکشن ہونے والا ہے۔ بی جے پی نے اس معاملے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ یہاں کے عام لوگوں نے تحقیقات سے سیاست کو دور رکھنے کی اپیل کی ہے۔


13 اکتوبر کی شام سات بجے کولکاتا کا بلیا گھاٹا علاقہ بم دھماکے سے دہل اٹھا تھا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ پورے علاقے میں دھماکے کی گونج سنائی دی۔ گرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن بلیا گھاٹا کلب جہاں یہ دھماکہ ہوا تھا کلب کی پوری عمارت اس دھماکے سے تباہ و برباد ہو گئی۔ لوگوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ اس معاملے کی کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہے جبکہ فورنسک جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کلب کے اندر ہم پہلے سے ہی موجود تھا۔


اب بی جے پی نے اس معاملے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی ایم پی لاکٹ چٹرجی نے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر اس معاملے کی این آئی اے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سی پی ایم نے اس علاقے سے امن ریلی نکالی ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہاں کے لوگوں میں بے چینی کیوں ہے؟ آخر یہ جگہ اتنا خاص کیوں ہے؟ خاص اس لئے ہے کہ یہ دھماکہ اس جگہ ہوا جہاں گاندھی آشرم پے 13 اگست1947 میں بنگال میں ہوئے فساد کے پیش نظر کلکتہ پہنچے اور یہاں نواب حیدر علی کے گھر میں 25 دنوں تک قیام کیا تھا اور اس وقت تک نواب حیدر علی کے مکان میں قیام کیا جب تک فساد بند نہیں ہوا۔


حیدر منزل کو گاندھی میوزیم کا نام دیا گیا۔ آج بھی گاندھی میوزیم کو دیکھنے کے لئے دور دراز سے لوگ یہاں آتے ہیں۔ اس پورے علاقے کو ایک الگ طریقے سے  سجایا گیا ہے۔ یہاں گاندھی جی کے پیغامات کو مختلف تصویروں کے ذریعہ سجایا گیا ہے۔ ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ پورا علاقہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ چاہتے ہیں کہ بم دھماکے کی تحقیقات ہو اور جو لوگ بھی اس میں شامل ہیں انہیں سزا ملے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ لوگوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ تحقیقات کو سیاست سے دور رکھا جائے۔ لوگوں کے مطابق تحقیقات ایسی ہو کہ یہاں کے آپسی اتحاد و بھائی چارے کو نقصان نہ پہنچے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 16, 2020 09:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading