உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے وفد نے کالنگ کانفرسنگ اور ورچوئل کے ذریعے محکمہ فلاح کے سکریٹری سے کیا مطالبہ

     ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا ایک نمائندہ وفد ناظم اعلی حضرت مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں اقلیتی فلاح امور وزارت کے سکریٹری امیتابھ کوشل کے ساتھ کالنگ کانفرسنگ اور ورچوئل میٹنگ کی۔

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا ایک نمائندہ وفد ناظم اعلی حضرت مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں اقلیتی فلاح امور وزارت کے سکریٹری امیتابھ کوشل کے ساتھ کالنگ کانفرسنگ اور ورچوئل میٹنگ کی۔

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا ایک نمائندہ وفد ناظم اعلی حضرت مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں اقلیتی فلاح امور وزارت کے سکریٹری امیتابھ کوشل کے ساتھ کالنگ کانفرسنگ اور ورچوئل میٹنگ کی۔

    • Share this:
    رانچی: ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کا ایک نمائندہ وفد ناظم اعلی حضرت مولانا محمد قطب الدین رضوی کی قیادت میں اقلیتی فلاح امور وزارت کے سکریٹری امیتابھ کوشل کے ساتھ کالنگ کانفرسنگ اور ورچوئل میٹنگ کی۔ کووڈ-19 کی وجہ سے اقلیتی فلاح سکریٹی کی خواہش تھی کہ ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد سے بلا واسطہ نہیں بلکہ ورچوول میٹنگ کی جائے۔ اسی کے مطابق ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے وفد نے وزارت فلاح سکریٹری سے ورچوول میٹنگ کر ایک میمورنڈم مجریہ ای ڈی ایس جے/ 786/3673/20 دیکر مانگ کی کہ ایک لمبے عرصے سے جھارکھنڈ میں اسٹیٹ سنی وقف بورڈ، ریاستی اقلیتی کمیشن، پندرہ نکاتی نفاذ کمیٹی اور حج کمیٹی کی مکمل تشکیل نو نہیں ہوسکی ہے۔ وفد نے سیکریٹری کوبتایا کہ مکمل وقف بورڈ تقریبا چھ سال سے خالی ہے چونکہ گزشتہ سرکار کی مدت میں پانچ سال صرف ممبران کی نامزدگی ہی کے ساتھ یونہی گزرگئے کسی چیئرمین کا انتخاب نہیں ہوا اور اب گزشتہ کمیٹی کی مدت ختم ہوئے ایک سال سے زیادہ کاوقت گزر گیا اور اب تک وقف بورڈ کی تشکیل نہیں ہوئی جس سے اوقاف جائداد کی تعمیر و ترقی رکی ہوئی ہے۔ اسی طرح جھارکھنڈ ریاستی اقلیتی کمیشن بھی تقریباً ایک سال سے خالی ہے جس کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے دکھ درد کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اقلیتی طبقہ کہیں اپنے مسائل کو رکھ نہیں پا رہے ہیں یونہی پندرہ نکاتی نفاذ کمیٹی فعال نہ رہنے کی وجہ سے اقلیتی طبقہ کے لاکھوں غریب افراد اس کی سہولیات سے محروم ہیں۔

    ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ کے نمائندہ وفد نے وزارت اقلتی فلاح کے سکریٹری امیتابھ کوشل کو بتایاکہ گذشتہ تقریباایک سال سے جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی تشکیل نو کے انتظار میں ہے، جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق گذشتہ 24/ جون 2020 کو حکومت نے 14/ افراد پر مشتمل ریاستی حج کمیٹی کی تشکیل تو ضرور کی مگر غیر فعال رکھا گیا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا گیا جس کا نتیجہ تھاکہ نہ چیئرمین کاانتخاب ہوسکااور نہ ہی کمیٹی فعال بن سکی۔
    قطب الدین رضوی نے کہاکہ ادارہ شرعیہ کی مانگ پر گذشتہ 27/ نومبر 2020 کو محکمہ اقلیتی فلاح امور نے جھارکھنڈ اسٹیٹ حج کمیٹی کانوٹیفیکیشن جاری کیاجو 16/ افراد پرمشتمل کمیٹی ہے اس نوٹیفیکیشن کے مطابق نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے 45 دنوں کے اندر ممبران ہی میں سے چیئرمین کاانتخاب کرناہے لیکن اب تقریبا 20 دن گزرگئے اب تک آگے کی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ لہذا امروز فردا میں تمام نومنتخب معزز ممبران حج کمیٹی کی میٹنگ طلب کرکے چیئرمین کاانتخاب کرادیاجائے۔ تاکہ عازمین حج کو سہولت مل سکے۔ ادارہ شرعیہ کے وفد کی باتوں کو وزارت اقلیتی فلاح کے سیکریٹری نے نہایت سنجیدگی اور غور سے سنا اور وفد کو یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی مذکورہ مطالبات کے تعلق سے محکمہ جاتی مراحل پورے کرلیئے جائیں گے اور ہفتہ عشرہ میں حج کمیٹی کے ممبران کی پہلی میٹنگ طلب کرچیئرمین کاانتخاب بھی کرا دیا جائیگا۔

    سکریٹری نے وفد سے کہاکہ اقلیتی فلاح امور کے وزیر سے رہنمائی وھدایت حاصل کر جلد ہی مطالبات پورے کیئے جائینگے۔ قطب الدین رضوی نے کہاکہ جھارکھنڈ کے سبھی طبقہ کے ساتھ ہی اقلیتی طبقہ کی بھی امیدیں موجودہ ہیمنت حکومت سے وابستہ ہیں اور وزیر اعلی خود بھی تمام مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ تاہم دوچند اہم وضروری مسائل کے حل میں تاخیر سے عوام کے اعتماد میں کمی واقع ہو۔جائیگی۔ اس لیئے اب مزید تاخیر نہ ہو اور ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ موجودہ حکومت سے یہ امید رکھتاہے کہ جلد ہی جھارکھنڈ اسٹیٹ سنی وقف بورڈ، جھارکھنڈ ریاستی اقلیتی کمیشن، جھارکھنڈ اسٹیٹ اردواکیڈمی، پندرہ نکاتی نفاذ کمیٹی کی تشکیل کے ساتھ اردو ٹیچروں کی بحالی اور مبینہ طور پر مرجر کیئے گئے اردو اسکولوں کے مرجرکی منسوخی ہوگی۔ آج کے اس کالنگ کانفرسنگ اور ورچوول نمائندہ وفد میں ناظم اعلی مولانامحمد قطب الدین رضوی کے ہمراہ مولانامفتی محمد فیض اللہ مصباحی،عقیل الرحمن، مولانامسعود فریدی، حافظ عبدالمبین نازش، مولانامجیب الرحمن، شمس الہدی وغیرہ شامل تھے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: