ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سیاسی مخالفت کے باوجود نیٹ و جے ای ای کے امتحان کا انعقاد، طلبا کو پریشانیوں کاسامنا 

روپک نے امتحان میں شرکت کے لئے تین سو کیلو میٹر کی مسافت طئے کی اور وہ بھی ایسے وقت میں جب انکا گاٶں سیلاب میں ڈوبا ہے، ساتھ ہی کورونا واٸرس کی زد میں آنے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ ایسے حالات میں روپک نے امتحان میں شریک ہونے کے لئے موٹر سائیکل کے ذریعہ مدنی پور سے کولکاتا کا سفر کیا اور امتحان گاہ پہنچے۔

  • Share this:
سیاسی مخالفت کے باوجود نیٹ و جے ای ای کے امتحان کا انعقاد، طلبا کو پریشانیوں کاسامنا 
سیاسی مخالفت کے باوجود نیٹ و جے ای ای کے امتحان کا انعقاد، طلبا کو پریشانیوں کاسامنا 

کولکاتہ۔ تمام تر سیاسی مخالفتوں کے باوجود یہاں جے ای ای اور نیٹ کے امتحانات منعقد ہوٸے۔ طلبا کی بڑی تعداد نے اس امتحان میں حصہ لیا۔ مستقبل میں کچھ کر دکھانے کی لگن کے ساتھ طلبا کو اب انتظار ہے نتاٸج کا۔ بنگال کے مختلف اضلاع سے طلبا اس امتحان میں شامل ہوٸے۔ ہر ایک طالب علم کے لئے امتحان کے مرکز تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ لیکن اس امتحان میں شامل ہوٸے بنگال کے مدنی پور ضلع کے  گھٹال سے تعلق رکھنے والے روپک شاہا کی ہمت و لگن کی ہر ایک نے ستائش کی ہے۔


روپک نے امتحان میں شرکت کے لئے تین سو کیلو میٹر کی مسافت طئے کی اور وہ بھی ایسے وقت میں جب انکا گاٶں سیلاب میں ڈوبا ہے، ہر طرف ہاہاکار مچا ہے، سرچھپانے کو جگہ نہیں، ساتھ ہی کورونا واٸرس کی زد میں آنے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ ایسے حالات میں روپک نے امتحان میں شریک ہونے کے لئے موٹر سائیکل کے ذریعہ مدنی پور سے کولکاتا کا سفر کیا اور امتحان گاہ پہنچے۔


مغربی مدنی پور ضلع کے گھٹال سے تعلق رکھنے والے روپک شاہا مشکلات اور پریشانیوں کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع گنوانا نہیں چاہتے تھے۔گھٹال اور کولکاتا کے درمیان معمول کے مطابق بسیں نہیں چل رہی ہیں۔ ایسے میں  امتحان کے مرکز تک پہنچنے کے لئے روپک کے والد نے  ایک موٹر سائیکل کا انتظام کیا تاکہ وہ گھٹال سے کولکاتا جاسکے۔روپک سہا کے والد منریگا میں کام کرتے ہیں۔ روپک نے رام چندر شیشو مندر سے تعلیم حاصل کی ہے۔


بنگال میں نیٹ امتحان کے کل 15 ٹیسٹ مراکز بناٸے گئے تھے۔ مغربی مدنی پور اور اس کے قریبی علاقوں میں کوئی بھی امتحان مرکز نہیں تھا۔ امتحانات کے مراکز کولکاتا، سلی گوڑی اور دیگر علاقے میں تھے ۔روپک سہا نے اسی سال گاؤں میں سب سے زیادہ نمبر لے کر ہائر سیکنڈری پاس کیا ہے۔ روپک نے کہا کہ میں 13 ستمبر کو آل انڈیا میڈیکل داخلہ امتحان میں بھی شرکت کروں گا۔ تاہم روپک اور ان جیسے ہزاروں طلبا کو اب نتاٸج کا انتظار ہے تاکہ وہ اپنے خوابوں کو پورا کرسکیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 02, 2020 12:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading