ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال بی جے پی میں ٹکٹ کی تقسیم پر ہنگامہ ، پارٹی نے لیڈروں کو فورا بلایا دہلی ، کل میٹنگ

West Bengal Assembly Election 2021: بی جے پی کے جن لیڈروں کو دہلی بلایا گیا ہے ، ان میں مکل رائے اور دلیپ گھوش جیسے لیڈران بھی شامل ہیں ۔

  • Share this:
بنگال بی جے پی میں ٹکٹ کی تقسیم پر ہنگامہ ، پارٹی نے لیڈروں کو فورا بلایا دہلی ، کل میٹنگ
بنگال بی جے پی میں ٹکٹ کی تقسیم پر ہنگامہ ، پارٹی نے لیڈروں کو فورا بلایا دہلی ، کل میٹنگ ۔ فائل فوٹو ۔

بنگال بی جے پی میں ٹکٹ کی تقسیم پر جاری ہنگامہ کو دیکھتے ہوئے پارٹی نے فورا ریاست کے بڑے لیڈروں کو آج رات دہلی پہنچنے کیلئے کہا ہے ۔ پارٹی کی کور گروپ کی میٹنگ بدھ کو دس بجے ہوگی ۔ رپورٹس کے مطابق پارٹی نے بنگال بی جے پی کے سبھی لیڈروں کو آج کی رات فلائٹ کے ذریعہ دہلی پہنچنے کیلئے کہا ہے ۔ مانا جارہا ہے کہ پارٹی نے یہ فیصلہ امیدواروں کی فہرست جاری کرنے کے بعد پارٹی میں جاری اندرونی رسہ کشی کو دیکھتے ہوئے کیا ہے ۔


بی جے پی نے بنگال میں حکمراں ممتا بنرجی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے جارحانہ مہم چھیڑ رکھی ہے ۔ بی جے پی کے جن لیڈروں کو دہلی بلایا گیا ہے ، ان میں مکل رائے اور دلیپ گھوش جیسے لیڈران بھی شامل ہیں ۔ انہیں فورا دہلی پہنچنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ ذرائع نے سی این این نیوز 18 کو اس بارے میں جانکاری دی ہے ۔ دراصل قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے کہ دونوں لیڈروں کو پارٹی امیدوار کے طور پر میدان میں اتار سکتی ہے ۔


بنگال بی جے پی میں کیوں مچا ہے ہنگامہ


بتادیں کہ بنگال بی جے پی میں پرانے لیڈروں اور پارٹی کا حال ہی میں دامن تھامنے والے لوگوں کے درمیان تکرار اتوار کو کھل کر سامنے آگئی ۔ اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہیں ملنے پر کئی لوگوں نے بھگوا پارٹی کے تئیں ناراضگی کا اظہار کیا اور استعفی دیدیا ۔ ساتھ ہی ریاست بھر میں کئی مقامات پر احتجاج بھی کئے گئے ۔ ترنمول کانگریس چھوڑ کر حال ہی میں بی جے پی میں شامل ہوئے سوون چٹٹوپادھیائے اور ان کے ساتھ بیساکھی بندوپادھیائے نے بھی ٹکٹ نہیں ملنے پر پارٹی چھوڑ دی ہے ۔ چٹٹوپادھیائے کئی دہائیوں سے بیہالا مشرق سیٹ کی نمائندگی کرتے آرہے ہیں ۔ حالانکہ یہاں سے پائل سرکار کو ٹکٹ دیدیا گیا ہے ، جو حال ہی میں پارٹی میں شامل ہوئی ہیں ۔

بابل سپریو کو ٹالی گنج سے ٹکٹ

ریاستی بی جے پی صدر دلیپ گھوش کو بھیجے استعفی میں چٹٹوپادھیائے نے بی جے پی پر بے عزت کرنے کا الزام لگایا ۔ بی جے پی نے مغربی بنگال میں تیسرے اور چوتھے مرحلہ کے تحت 75 سیٹوں پر ہونے والی ووٹنگ کے پیش نظر اتوار کو 63 امیدواروں کی فہرست جاری کی تھی ۔ ریاست میں آٹھ مراحل میں الیکشن ہورہے ہیں ۔ امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے بی جے پی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے بتایا کہ بابل سپریو ٹالی گنج سے الیکشن لڑیں گے ۔

اشولا لاہڑی اور بشال لاما کی مخالفت

بی جے پی امیدواروں کے ناموں کا اعلان ہوتے ہی ریاست میں مختلف حصوں میں مخالفت شروع ہوگئی ہے اور کئی لیڈروں نے حال ہی میں پارٹی میں شامل ہوئے دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کو پرانے لیڈروں سے زیادہ اہمیت دئے جانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ وہیں کچھ معاملات میں نئے لیڈروں نے اپنی سیٹ کو لے کر ناخوشی ظاہر کی ۔ سرکار کے سابق چیف اقتصادی مشیر اشوک لاہڑی کو علی پور دوار سیٹ سے امیدوار بنانے اور گورکھا جن مکتی مورچہ چھوڑ کر بی جے پی میں آئے بشال لاما کو کالچنی سے اتارنے کی شمالی بنگال میں مخالفت شروع ہوگئی ہے اور مقامی لیڈران سڑکوں پر اتر آئے ہیں ۔

پارٹی کے ایک لیڈر نے کہا کہ اشوک لاہڑی کون ہیں اور انہیں امیدوار کیوں بنایا گیا ، ہمیں نہیں معلوم ۔ علی پور دوار سے وہ لڑیں گے تو وہ پرانے لوگ جنہوں نے پارٹی کیلئے برسوں تک لڑائی لڑی ، وہ کیا کریں گے ۔ مقامی بی جے پی لیڈر اس نا انصافی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے ۔ ترنمول سے بی جے پی میں شامل ہوئے ہگلی ضلع کے سنگور علاقہ سے موجودہ ممبر اسمبلی رابیندر ناتھ بھٹاچاریہ کو امیدوار بنانے پر کارکنان نے ناراضگی کا اظہار کیا ۔ ترنمول سے ٹکٹ نہیں ملنے پر بھٹاچاریہ بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ۔ ایک مقامی بی جے پی لیڈر نے کہا کہ پارٹی کو اپنا فیصلہ بدلنا ہوگا ۔ ریاست میں کئی مقامات پر احتجاج ہوئے ۔

شیام پور سے بھی تنوشری چکرورتی کو ٹکٹ دیا گیا ہے ، جو حال ہی میں بی جے پی میں آئی ہیں ۔ وہیں ہوڑہ ضلع کے پنچلا سیٹ سے موہت لال گھاٹی کو ٹکٹ ملنے پر ناراض بی جے پی کارکنان نے پارٹی دفتر میں توڑپھوڑ کی ۔ کئی ضلع سطح کے لیڈروں نے بھی ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی سے استعفی دیدیا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 16, 2021 11:06 PM IST