ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

چوطرفہ تنقید کے بعد جادو پور یونیورسٹی کی طالبات کے خلاف متنازع بیان پربی جے پی لیڈر کی وضاحت کی کوشش

کلکتہ : ہندوستان کی معیاری یونیورسٹیوں میں سے ایک جادو پور یونیورسٹی کے طالبات کو ’’بے شرم‘‘ کہنے والے بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے آج اپنے بیان پر وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے

  • UNI
  • Last Updated: May 15, 2016 07:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
چوطرفہ تنقید کے بعد جادو پور یونیورسٹی کی طالبات کے خلاف متنازع بیان پربی جے پی لیڈر کی وضاحت کی کوشش
کلکتہ : ہندوستان کی معیاری یونیورسٹیوں میں سے ایک جادو پور یونیورسٹی کے طالبات کو ’’بے شرم‘‘ کہنے والے بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے آج اپنے بیان پر وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے

کلکتہ : ہندوستان کی معیاری یونیورسٹیوں میں سے ایک جادو پور یونیورسٹی کے طالبات کو ’’بے شرم‘‘ کہنے والے بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے آج اپنے بیان پر وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے تاہم ان کے بیان کی ملک بھر میں مذمت اور تنقید کی جارہی ہے ۔ دلیپ گھوش نے کہا کہ احتجاج کے نام طلباء لڑکیوں کے انڈر گارمنٹ کپڑے پہنے، کھلے عام بو س و کنار کیے جائیں ؟ کیا یہ صحیح ہے ، ہم اپنی اگلی نسل کو کیا سیکھارہے ہیں ۔؟

بی جے پی لیڈر نے 2015میں ہوئے مظاہرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کے ایک گروپ نے عصمت دری کے خلاف سینیٹری پیڈ مہم چلائی تھی ، اسی طرح اخلاق نگرانی کے خلاف ’’کس آف لو ‘‘ مہم چلائی گئی تھی ۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ الفاظ اس طرح کے طلباء و طالبات کیلئے کیا تھا ۔اگر یہ طلباء اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں تو وہ اس طرح کے الفاظ استعمال کرتے رہیں گے ۔

خیال رہے کہ کل بی جے پی لیڈر دلیپ گھوش نے آر ایس ایس کی طلباء تنظیم اے بی وی پی کے حامیوں پر طالبات کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام پر کہا تھا کہ جا دو پوریونیورسٹی کی طالبات بے شرم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب 6مئی کو اگنی ہوتری کی فلم ’’بدھا ان ٹریفک جام‘‘ کی اسکریننگ کی وجہ سے آر ایس ایس حامی اور کمیونسٹ حامیوں کے درمیان جھڑپ ہورہی تھی اس وقت یہ طالبات کیوں کئی؟

انہوں نے کہا کہ یہ بے شرم ہیں اور اس طرح کے الزامات بے ہودے ہیں ۔اس طرح کی لرکیاں اس لائق نہیں ہیں کہ ان کی حمایت کی جائے ۔یہ جان بو جھ کر حالات پیدا کرتی ہیں پھر دوسرے پر الزام عاید کردیتی ہیں ۔ ریاستی کانگریس کے صدر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش کا یہ بیان بی جے پی اور آر ایس ایس کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھوش کا بیان قابل مذمت ہیں اور انہیں ملک بھر کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اور آر ایس ایس کے پاس کوئی بھی شرم ہے تو انہیں گھوش کو معافی مانگنے پر مجبور کرنا چاہیے۔

ادھیر نے کہا کہ ایک طرف بی جے پی قوم پرستی اور بھارت ماتا کی جے کے نام پر سیاست کرتی ہے اور کہتی ہے جو بھارت ماتا نہیں کہتا ہے وہ محب وطن نہیں ہے مگر دوسری طرف ملک کی خواتین کے خلاف اس قدر گھٹیا اور بے ہودے جملے استعمال کیے جارہے ہیں ۔
سی پی ایم کے سینئر لیڈ حنان ملا نے کہا کہ بی جے پی لیڈر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس خواتین کو آزاد و خود مختار دیکھنا نہیں چاہتے ہیں ۔یہ قابل مذمت ہے اور بی جے پی لیڈر کی گھٹیا ذہنیت کا مظہر ہے ۔ بی جے پی نے ہمیشہ خواتین کی خود مختاری پر قدغن لگانے کی کوشش کی ہے ۔وہ مر و خواتین کو برابری کا درجہ دینے کو تیار نہیں ہے ۔ان کی ذہنیت ہی خواتین مخالف کی ہے ۔جب کہ سی پی ایم کے ریاستی صدر سوریہ کانت مشرانے کہا کہ بی جے پی لیڈر کا یہ بیان کو کوئی تعجب خیزنہیں ہے اور بلکہ اس کے طرح کے بیانات ان کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔
خواتین کمیشن کی سابق چیرمین ممتا شرما نے بی جے پی کے سینئر لیڈر کی جادو پوریونیورسٹی کی طالبات کے خلاف متنازع بیان کو افسوس ناک بتاتے ہوئے آر ایس ایس اور بی جے پی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھوش کو معافی مانگنے پر مجبور کریں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کی ذہنیت کا ہی نتیجہ ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعدخواتین کے خلاف جرائم میں 32فیصد اضافہ ہوا ہے ۔لیڈروں کو بیانات دینے سے قبل سوچنا چاہیے ۔
First published: May 15, 2016 07:25 PM IST