ہوم » نیوز » No Category

ڈاکٹر بی آرامبیڈکر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی لائبریری میں 53 سالوں سے نہیں ہےکوئی لائبریرین

مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکر بہار یونیورسٹی کا شعبہ اردو برسوں سے نہ صرف اساتذہ کی کمی کا شکار ہے ، بلکہ شعبہ کی لائبریری اپنے قیام کے وقت سے ہی لائبریرین سے بھی محروم ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Mar 31, 2016 11:37 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ڈاکٹر بی آرامبیڈکر یونیورسٹی کے شعبہ اردو کی لائبریری میں 53 سالوں سے نہیں ہےکوئی لائبریرین
مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکر بہار یونیورسٹی کا شعبہ اردو برسوں سے نہ صرف اساتذہ کی کمی کا شکار ہے ، بلکہ شعبہ کی لائبریری اپنے قیام کے وقت سے ہی لائبریرین سے بھی محروم ہے۔

مظفرپور : بہارکے مظفرپورشہرمیں واقع ڈاکٹربھیم راؤامبیڈکر بہار یونیورسٹی کا شعبہ اردو برسوں سے نہ صرف اساتذہ کی کمی کا شکار ہے ، بلکہ شعبہ کی لائبریری اپنے قیام کے وقت سے ہی لائبریرین سے بھی محروم ہے۔

مظفرپور میں واقع ڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکر بہاریونیورسٹی 1952 میں قائم ہوئی اور 1963 میں یونیورسٹی میں شعبہ اردو کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ شعبہ کا شمالی بہارمیں اردوزبان وادب کی ترقی میں درخشاں ماضی رہاہے، لیکن گذشتہ کئی برسوں سے وسائل کی کمی کے سبب شعبہ تعلیمی سرگرمیوں کوبخوبی انجام دینے سے قاصرہے۔ شعبہ میں فی الوقت ایم اے کے تقریباً 50 طلبہ ہیں۔ شعبہ میں اساتذہ کی آٹھ اسامی ہیں ، لیکن اساتذہ صرف چار ہی ہیں اور دیگر چاراسامیاں برسوں سےخالی پڑی ہیں۔

انتہا تو یہ ہے کہ اساتذہ کی کمی کی کسی حدتک بھرپائی کرنے والی شعبہ کی لائبریری بھی لائبریرین سے محروم ہے۔ 1963 میں قیام کے وقت سے لے کرآج تک شعبہ کی لائبریری کے لیے لائبریرین کیا،کسی بھی شکل میں کسی قسم کے ایک بھی لائبریری اسٹاف کی تقرری عمل میں نہیں آئی۔ شعبہ کے اساتذہ ہی اپنی بساط کے مطابق لائبریری کی دیکھ ریکھ کرتے آرہے ہیں۔ لائبریری ڈیجیٹلایزیشن کے اس دورمیں اکیڈمک لائبریری ہونے کے باوجود یہ روایتی میکانزم سے بھی محروم ہے۔

First published: Mar 31, 2016 11:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading