Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

    لاک ڈاون میں بہار کے نجی اسکولوں کی دوہری پالیسی، پہلے فون کے استعمال پر طلباء پر لگاتے تھے جرمانہ اب کہہ رہے ہیں فون کے بغیر کیسے ہوگی پڑھائی

    دراصل فیس لینے کے نام پر اسکولوں نے آن لائن کلاس کی شروعات کی ہے۔ آن لائن کلاس ان گھروں پر بھاری پڑ رہا ہے جہاں ایک سے زیادہ بچے ہیں۔

    • Share this:
    لاک ڈاون میں بہار کے نجی اسکولوں کی دوہری پالیسی، پہلے فون کے استعمال پر طلباء پر لگاتے تھے جرمانہ اب کہہ رہے ہیں فون کے بغیر کیسے ہوگی پڑھائی
    لاک ڈاون میں بہار کے نجی اسکولوں کی دوہری پالیسی، جانئے کیا ہے معاملہ

    پٹنہ۔ بہار کے نجی اسکولوں کی من مانی سے گارجین پریشان ہیں۔ وقت پر فیس ادا نہیں کرنے والوں کو آن لائن کلاس سے باہر کرنے کی اسکول کی طرف سے دھمکی دی جارہی ہے۔ اسکولوں کی جانب سے بار بار ایس ایم ایس کے ذریعہ فیس جمع کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے جس کے سبب گارجین پریشان ہو گئے ہیں۔ انکے مطابق انہوں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ آپ آن لائن کلاس شروع کیجئے، اسکولوں نے خود سے آن لائن کلاس شروع کیا اور یہ پوچھا بھی نہیں کہ آن لائن کلاس کی سہولت لوگوں کے گھروں میں ہے بھی یا نہیں۔


    دراصل فیس لینے کے نام پر اسکولوں نے آن لائن کلاس کی شروعات کی ہے۔ آن لائن کلاس ان گھروں پر بھاری پڑ رہا ہے جہاں ایک سے زیادہ بچے ہیں۔ موبائل اور کمپیوٹر نہیں ہونے سے ایک سے زیادہ بچوں والے گھروں میں آن لائن کلاس میں شرکت کرنا مشکل ہورہا ہے۔ کل ہند آئمہ مساجد بہار کے صدر مولانا سجاد احمد ندوی کے مطابق لاک ڈاون میں روزگار کی خستہ حالی کے سبب لوگوں کو اپنا قیمتی زیور بیچ کر بچوں کے لئے موبائل کا انتظام کرنا پڑا ہے۔ ادھر اسکولوں کی من مانی یہی پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ اسکول فیس کے علاوہ ٹرانسپورٹ کا فیس بھی گارجین کو دینے پر مجبور کررہے ہیں جبکہ بچے گھروں میں ہیں وہ اسکول جا بھی نہیں رہے ہیں۔ ایسے میں اسکول کے ٹرانسپورٹ کا فیس دینا اپنے آپ میں ایک مضحکہ خیز معاملہ ہے۔


    بہار کے ان اسکولوں میں اس طرح کے معاملے زیادہ ہیں جو اسکول مسلمانوں کے ذریعہ چلائے جا رہے ہیں۔ ادھر موبائل کے استعمال سے بچوں کے ذہن پر فرق پڑ رہا ہے۔ اسکول پہلے موبائل کے استعمال کے سبب بچوں پر جرمانہ لگاتے تھے اب کہہ رہے ہیں کہ موبائل خرید کر بچوں کو دیجئے تاکہ ان کی پڑھائی ہو سکے۔ بچوں کو موبائل دینے سے انکی عادتیں بدلنے لگی ہیں۔ بچے موبائل پر گیم کھیل رہے ہیں۔ غلط ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔ موبائل کے لئے بار بار ضد کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ موبائل نہیں ملنے کی صورت میں کھانا پینا چھوڑ رہے ہیں۔ سب سے خاص بات یہ ہیکہ حکومت کا نجی اسکولوں پر کوئی کنڑول نہیں ہے، حکومت کی جانب سے اس تعلق سے اب تک کوئی واضح بیان تک جاری نہیں ہوا ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہیکہ حکومت لاک ڈاون اور کورونا کے مسلہ میں الجھی ہے جبکہ نجی اسکول موقع کا فائدہ اٹھا کر گارجین کو پریشان کرنے میں لگے ہیں۔ جانکاروں نے اس تعلق سے حکومت کو ترجیحی بنیاد پر پہل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    Published by: Nadeem Ahmad
    First published: Jul 30, 2020 03:06 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading