ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

تیجسوی یادو کی’ سیاسی چال‘ کا ’ شکار‘ ہو گئے کنہیا کمار، جانیں کیسے

سی پی آئی کی تمام کوششوں کے بعد بھی آر جے ڈی اس بات پر تیار نہیں ہوئی کہ کنہیا کمار بیگوسرائے سے مہاگٹھ بندھن کے امیدوار ہوں

  • Share this:
تیجسوی یادو کی’ سیاسی چال‘ کا ’ شکار‘ ہو گئے کنہیا کمار، جانیں کیسے
کنہیا کمار، گری راج سنگھ، تیجسوی یادو: فائل فوٹو

بہار میں مہاگٹھ بندھن کی اتحادی پارٹیوں کی سیٹوں کی تقسیم کے اعلان کے ساتھ ہی یہ واضح ہو گیا کہ سی پی آئی اور سی پی ایم اس کا حصہ نہیں ہوں گے۔ سی پی آئی کی تمام کوششوں کے بعد بھی آر جے ڈی اس بات پر تیار نہیں ہوئی کہ کنہیا کمار بیگوسرائے سے مہاگٹھ بندھن کے امیدوار ہوں۔ سوال اٹھ رہے ہیں کہ کنہیا کمار کو بالآخر گٹھ بندھن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا اور اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟


دراصل، بیگو سرائے سے این ڈی اے نے گری راج سنگھ کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ گری راج سنگھ اور کنہیا کمار بھومیہار ذات سے ہیں۔ ایسے میں اگر مقابلہ دو بھومیہاروں کے درمیان ہوا اور کچھ پسماندہ ذاتوں کے ووٹ آر جے ڈی کی طرف شفٹ ہوئے تو آر جے ڈی مسلم اور یادو کے ووٹوں سے یہ سیٹ نکال سکتی ہے۔


اگر سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہے کہ کنہیا کو مہاگٹھ بندھن کا حصہ نہیں بنانا تیجسوی یادو کی ایک سیاسی چال ہے۔ یہ اعداد وشمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ 2014 کے عام انتخابات میں بیگو سرائے کی سیٹ سے بی جے پی کے بھولا سنگھ تقریبا 4.28 لاکھ ووٹوں سے جیتے تھے۔ وہیں، آر جے ڈی کے تنویر حسن کو 3.70 لاکھ ووٹ ملے تھے۔ دونوں میں تقریبا 58 ہزار ووٹوں کا فرق تھا۔ جبکہ سی پی آئی کے راجیندر پرساد سنگھ کو تقریبا 1.92  ہزار ووٹ ہی ملے تھے۔


اتنا ہی نہیں، پلوامہ حملہ کے بعد ہوئے ائیر اسٹرائک سے ملک میں قوم پرستانہ نظریہ کا عروج بھی کنیہا سے تیجسوی کی دوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دراصل، تیجسوی نہیں چاہتے تھے کہ کنہیا کی ’ ملک مخالف‘ شبیہ کا نقصان مہاگٹھ بندھن کو ہو۔

وجے جھا کی رپورٹ
First published: Mar 26, 2019 04:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading