ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں سیلاب کے سبب عام زندگی مشکل میں، تعلیم کا سلسلہ مہینوں سے بند، اب کھانے پر بھی آفت: رلادیں گی یہ تصویریں

بہار میں سیلاب کے سبب جہاں عام زندگی مشکل میں ہے وہیں سب سے زیادہ بچیں متاثر ہورہے ہیں۔ تعلیم کا سلسلہ مہینوں سے بند ہے اب کھانے پر بھی آفت آگئ ہے۔

  • Share this:
بہار میں سیلاب کے سبب عام زندگی مشکل میں، تعلیم کا سلسلہ مہینوں سے بند، اب کھانے پر بھی آفت: رلادیں گی یہ تصویریں
بہار میں سیلاب کے سبب جہاں عام زندگی مشکل میں ہے وہیں سب سے زیادہ بچیں متاثر ہورہے ہیں

بہار میں سیلاب کے سبب جہاں عام زندگی مشکل میں ہے وہیں سب سے زیادہ بچیں متاثر ہورہے ہیں۔ تعلیم کا سلسلہ مہینوں سے بند ہے اب کھانے پر بھی آفت آگئ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتیں ہیں لیکن بہار میں ہمیشہ بچوں کے سامنے مصیبتیں کھڑی ہوتی رہی ہیں۔ ایک تو اسکول کی کمی اور اوپر سے غریبی تعلیم کے سلسلہ کو قائم رکھ پانے میں ناکام رہتی ہے۔ جب معاملہ سیلاب کا ہو تو سیلاب سے متاثرہ ضلعوں کے بچوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے۔ بہار کے قریب آٹھ ضلعوں میں سیلاب کا پانی قہر برپا کررہا ہے۔ خاص طور سے گاؤں میں پانی داخل ہونے کے سبب عام زندگی بری طرح سے متاثر ہے۔ وہیں ان گاؤں میں رہنے والے بچوں کی مشکل میں اضافہ ہوگیا ہے۔

مڈ ڈے میل کے تحت غریب طلباء کو اسکولوں میں کھانا مل جاتا ہے۔ کورونا کی مار اور سیلاب کے سبب اسکول بند ہیں۔ اب بچوں کو نہ ہی کھانا مل پارہا ہے اور نہ ہی ان کے ہاتھوں میں کتاب اور کاپیاں ہیں۔ فکر صرف اتنی ہے کہ کسی طرح سیلاب کی مار سے وہ نکل سکیں۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے سیلاب متاثرہ افراد کے لئے کھانے کا نظم کیاگیا ہے لیکن وہ ناکافی ہے۔ بچے بیمار پڑ رہے ہیں اور علاج کےنام پر ضلعوں میں کچھ بھی نہیں ہے۔


سیلاب کی مار جھیل رہے لوگ اپنے گھر کو ویران ہوتا دیکھ کر پہلے سے پریشان ہیں اوپر سے بچوں کی صحت ان کے مستقبل اور ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہے۔ غریب خاندان اپنے بچوں کو لیکر مزید فکرمند ہیں۔ سیلاب کے سبب بچوں کا پیٹ بھر پانا ان کے لئے مشکل ہورہا ہے۔ ادھر کئ مہینوں سے تعلیمی سلسلہ بند ہونے سے گاؤں میں پڑھنے والے بچوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔


ضلع انتظامیہ سے مقامی لوگوں نے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے کھانے پینے کا انتظام کریں، ساتھ ہی بچوں کے علاج کے لئے سیلاب متاثرہ ضلعوں میں میڈیکل ٹیم کو روانہ کیا جائے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 19, 2020 04:55 PM IST