உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الیکشن کمیشن کاممتا بنرجی کو جواب ، وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نہیں، ٹی ایم سی سپریمو کے طور پر جاری کیا گیا نوٹس

    مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی

    مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی

    کولکاتہ : الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے شوکاز نوٹس کے جواب کو مستردکرتے ہوئے 22اپریل تک ذاتی طور پر ازسر نو جواب دینے کی ہدایت دی ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      کولکاتہ : الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے شوکاز نوٹس کے جواب کو مستردکرتے ہوئے 22اپریل تک ذاتی طور پر ازسر نو جواب دینے کی ہدایت دی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے وزیرا علی ممتا بنرجی کو سخت الفاظ میں خط جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن نے انہیں نوٹس ترنمول کانگریس کی سپریمو کی حیثیت سے جاری کیا تھا ، نہ کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ۔
      کمیشن نے کہا کہ اب تک آپ کی طرف سے کمیشن کو کوئی جواب نہیں موصول ہوا ہے ۔کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر آل انڈیا ترنمول کانگریس کی سپریمو کی حیثیت سے آپ کو جاری کیا تھا ، اس لیے اس نوٹس کا جواب آپ کو ہی دینا چاہیے نہ کہ چیف سیکریٹری باسودیب بنرجی کو اس کا جواب دینا چاہیے۔  اگر 22اپریل تک جواب نہیں ملا ، تو کمیشن بغیر کسی اطلاع کے کارروائی کرنے کیلئے آزادہوگا۔
      خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آسنسول میں ایک انتخابی جلسے میں آسنسول کو ضلع بنانے سے متعلق اعلان کیا تھا ، جس پر الیکشن کمیشن نے انہیں نوٹس جاری کیا تھا اوراس کا جواب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف سے چیف سکریٹری نے دیا تھا ۔
      اس پر مختلف سیاسی جماعتوں نے سخت تنقید کی تھی کہ ممتا بنرجی انتخابات میں حکومتی مشنری کا استعمال کررہی ہیں ۔وزیر اعظم مودی نے بھی اپنی کولکاتہ ریلی میں بھی اس پر تنقید کی تھی ، مگر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمو ل کانگریس کا کہنا تھا کہ انہیں وزیر اعلی حیثیت سے نوٹس دیا گیا تھا ۔ اس لیے چیف سکریٹری نے اس کا جواب دیا ہے ۔
      اب کمیشن نے وضاحت کردی ہے کہ ممتا بنرجی کو نوٹس ترنمول کانگریس کی سپریمو کی حیثیت سے دیا گیا تھا نہ کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے ۔ نوٹس ملنے پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ بنگلہ نئے سال کے موقع پر الیکشن کمیشن نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے، مگر کہتی ہوں کہ اس کا جواب عوام دیں گے ۔
      First published: