உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: لدھیانہ دھماکےسے منسلک SFJ دہشت گردجرمنی میں پکڑا گیا، پنجاب میں مزیدحملوں کی تھی منصوبہ بندی

    نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نومبر میں کینیڈا کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ سکھ فار جسٹس کو ملک میں دہشت گرد ادارہ قرار دے۔

    نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نومبر میں کینیڈا کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ سکھ فار جسٹس کو ملک میں دہشت گرد ادارہ قرار دے۔

    سال 2007 میں قائم کی گئی سکھس فار جسٹس بنیادی طور پر امریکہ میں قائم ایک تنظیم ہے جو پنجاب میں سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔ جسے خالصتان کہا جاتا ہے۔ اس تنظیم پر ہندوستانی حکومت نے 2019 میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت پابندی لگا دی تھی۔ پنجاب میں علیحدگی اور پرتشدد عسکریت پسندی کو فروغ دینے کا بھی اس پر الزام عائد ہے۔

    • Share this:
      ذرائع نے CNN-News18 کو بتایا کہ سکھس فار جسٹس (SFJ) کے سرکردہ کارکن جسوندر سنگھ ملتانی (Jaswinder Singh Multani) مبینہ طور پر لدھیانہ کورٹ دھماکہ کیس سے منسلک ہیں۔ ان کو جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ سی این این نیوز 18 کے مطابق ملتانی مبینہ طور پر پنجاب میں ایک اور دھماکے اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ملتانی خالصتان کا حامی ’’دہشت گرد‘‘ ہے اور جرمنی کے شہر ایرفرٹ میں مقیم ہے۔ وہ ایس ایف جے سے قریبی تعلق رکھتا ہے، جو علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔

      جمعرات کو لدھیانہ کی عدالت میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم پانچ زخمی ہو گئے۔ ذرائع نے پہلے CNN-News18 کو بتایا تھا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حملہ پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیموں نے مقامی غنڈوں کے ذریعے کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور عمارت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے گراؤنڈ فلور پر بم نصب کرنا چاہتے تھے۔ دھماکا خیز مواد بظاہر اس وقت پھٹ گیا جب اسے ٹھیک کیا جا رہا تھا۔

      سال 2007 میں قائم کی گئی سکھس فار جسٹس بنیادی طور پر امریکہ میں قائم ایک تنظیم ہے جو پنجاب میں سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کا مطالبہ کرتی ہے۔ جسے خالصتان کہا جاتا ہے۔ اس تنظیم پر ہندوستانی حکومت نے 2019 میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت پابندی لگا دی تھی۔ پنجاب میں علیحدگی اور پرتشدد عسکریت پسندی کو فروغ دینے کا بھی اس پر الزام عائد ہے۔

      ملتانی حال ہی میں پاکستان میں مقیم اپنے کارندوں اور اسلحے کے اسمگلروں کی مدد سے بارودی مواد، دستی بم وغیرہ پر مشتمل ہتھیاروں کی کھیپ کو سرحد پار سے پنجاب بھیجنے کے حوالے سے منظر عام میں آیا تھا۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کے لیے پنجاب میں مقیم کارندوں کے لیے پاکستان سے دھماکہ خیز مواد بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ خالصتانی لیڈروں جیسے ہردیپ سنگھ نیجر، پرمجیت سنگھ پما، سبی سنگھ، کلونت سنگھ موتھاڈا اور دیگر سے قریبی تعلق بنائے ہوئے ہے۔

      برطانوی پولیس نے گزشتہ ماہ ایس ایف جے کے ہانسلو کے دفتر پر چھاپہ مارا تھا۔ انہوں نے حال ہی میں تنظیم کے زیر اہتمام نام نہاد 'پنجاب ریفرنڈم' سے متعلق سائٹ سے الیکٹرانک آلات اور دستاویزات چھین لیے جو کہ بہت کم لوگوں نے حصہ لینے کے ساتھ ایک مذاق ثابت ہوا۔

      نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نومبر میں کینیڈا کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ سکھ فار جسٹس کو ملک میں دہشت گرد ادارہ قرار دیا جائے۔ پنجاب پولیس نے ستمبر میں ایس ایف جے کے ایک ماڈیول کا پردہ فاش کیا تھا اور کھنہ کے گاؤں رام پور میں چھاپے کے دوران 'ریفرنڈم 2020' کی سرگرمیوں کو فروغ دینے والے لاکھوں پمفلٹ برآمد کرنے کے بعد اس کے تین اراکین کو گرفتار کیا تھا۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: