ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مغربی بنگال کا کسان طبقہ سرکاری اسکیموں سے فاٸدہ اٹھانے میں ناکام: ریاستی گورنر کا بڑا الزام 

اب ایک بار پھر ممتا حکومت پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

  • Share this:
مغربی بنگال کا کسان طبقہ سرکاری اسکیموں سے فاٸدہ اٹھانے میں ناکام: ریاستی گورنر کا بڑا الزام 
بنگال کا کسان طبقہ سرکاری اسکیموں کا فاٸدہ اٹھانے میں ناکام ہے

کولکاتہ۔ مغربی بنگال میں کسانوں کو لیکر ایک بار پھر سیاست تیز ہوئی ہے۔ بنگال کی سیاست میں کسانوں کا مدعا اہم ہوتا ہے۔ ریاست کی سینگور تحریک کو سامنے رکھ کر وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بنگال میں اقتدار کی راہ ہموار کی تو اسی سینگور تحریک نے لیفٹ کو بنگال کی سیاست میں پیچھے کر دیا۔ بنگال میں نندی گرام تحریک بھی لوگوں کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہے۔ نندی گرام میں انڈسٹری کے لئے زمین نہ دئیےجانے کے لئے کسانوں کی تحریک کے دوران پولیس فائرنگ میں کئی لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔


بنگال کی بڑی آبادی جن میں اقلیتوں کی ایک بڑی آبادی بھی شامل ہے، کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ روزگار کے وساٸل نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی زمین پر فصل اگاتے ہیں اور وہی ان کے گزر بسر کا واحد ذریعہ ہے۔ کیونکہ بنگال کی زمین کھیتی باڑی کے لئے زرخیز ہے۔ اس لئے یہاں کے لوگ دیگر روزگار کے مقابلے کھیتی باڑی کے کاموں سے جڑے رہے۔ ایک طویل عرصے تک بنگال پر حکومت کرنے والے لیفٹ فرنٹ نے بھی اسی کسان کے مدعے کو ساتھ رکھ کر سیاست میں اپنے قدم جماٸے۔ پٹہ نظام ختم کیا۔ کسانوں کو زمین کا مالک بنایا لیکن بنگال میں صنعتکاری کو فروغ دینے کے لئے کسانوں کی زمینیں لینے اور انہیں بہتر معاوضہ نہ ملنے سے ریاست کا کسان طبقہ معاشی طور پر بدحال ہوا ہے۔


بیشتر کسان اپنی زمینیں گنوا چکے ہیں۔ اب ایک بار پھر ممتا حکومت پر کسانوں کو نظر انداز کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ریاستی گورنر جگدیپ دھنکر نے وزیر اعلی ممتا بنرجی کو خط لکھ کر بنگال میں وزیر اعظم کسان سمان ندھی یوجنا نافذ نہیں کئے جانے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نےکہا ہے کہ ریاست کے تقریبا 70 لاکھ کسان اس اسکیم سے مستفیض ہو سکتے ہیں مگر انہیں محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوٸے کہا کہ ترنمول حکومت کسانوں کے ساتھ”ظالمانہ مذاق“ کررہی ہے اور جان بوجھ کر ریاست کے کسانوں کو اس اسکیم سے محروم کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے  8,200کروڑ روپئے کا فائدہ کسانوں کو نہیں مل سکا جبکہ ملک بھر کے ہر کسان کو 12 ہزار روپے سالانہ ملتے ہیں۔ حالانکہ بنگال حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے مرکز سے کہیں زیادہ کسانوں کے مفادات کیلئے  منصوبے شروع کئے ہیں۔


 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 11, 2020 02:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading