உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J & K News: ایف اے ٹی اسکولوں پر پابندی، جموں کشمیر میں خوف و اضطراب کی لہر

    یہ معلوم ہوا ہے کہ FAT اسکولوں پر پابندی نئی تشکیل شدہ تحقیقاتی ایجنسی کے بعد لگائی گئی ہے

    یہ معلوم ہوا ہے کہ FAT اسکولوں پر پابندی نئی تشکیل شدہ تحقیقاتی ایجنسی کے بعد لگائی گئی ہے

    محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور انتظامیہ کو 15 دن کے اندر فلاح عام ٹرسٹ اداروں کو سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    • Share this:
      غیر یقینی صورتحال ہزاروں طلباء اور اساتذہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے کیونکہ جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم جماعت اسلامی سے وابستہ فلاح عام ٹرسٹ (Falah-e-Aam Trust) سے منسلک 300 سے زیادہ اسکولوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ تاہم ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ سات اسکولوں کو چھوڑ کر باقی کا اس سے الحاق ختم ہو گیا ہے کیونکہ جماعت پر پہلے 1990 میں اور حال ہی میں 2019 میں پابندی لگائی گئی تھی۔

      اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ کتنے اسکولوں کو اس کا سامنا کرنا پڑے گا، ہزاروں بچوں، والدین، اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان خوف اور اضطراب محسوس کیا جارہا ہے، حال ہی میں جاری کردہ حکومتی حکم نامے میں فلاح عام ٹرسٹ سے منسلک اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

      محکمہ سکول ایجوکیشن کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور انتظامیہ کو 15 دن کے اندر فلاح عام ٹرسٹ اداروں کو سیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Urfi Javed Video:فوائل پیپر کی ڈریس کہنے والوں پر بھڑکی عرفی جاوید، کہی یہ بات

      ان اسکولوں کے طلباء کو قریبی سرکاری اسکولوں میں داخلہ مل جائے گا، سرکلر میں بتایا گیا ہے کہ فلاح عام ٹرسٹ اداروں کو نئے داخلہ لینے یا نئے رجسٹریشن کے لیے درخواست دینے پر پابندی لگائی گئی ہے۔

      مزید پڑھیں: Celebs Education:سونوسود نے انجینئرنگ تو سنیل شیٹی نے ہوٹل مینجمنٹ میں حاصل کی ڈگری، جانیے کتنے تعلیم یافتہ ہیں بالی ووڈ کے یہ ستارے

      آرڈر میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کتنے اسکولوں کو بند کیا جائے گا۔ لیکن نیوز 18 کو قابل اعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر حکومت اس تجویز پر عمل کرتی ہے تو 300 سے زائد اسکول متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عہدیداروں کی رائے ہے کہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے اداروں کو اپنا نام بدلنے اور ایف اے ٹی سے لاتعلقی ثابت کرنے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے اور وہ بھی ایک تعلیمی سیشن کے وسط میں وقت دیا جائے۔ تاکہ طلبہ کا مستقبل خراب نہ ہو۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: