உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار میں پندرہ نکاتی پروگرام کا کام ٹھنڈے بستے میں، ماہرین تعلیم کی وزیر اعظم سے اس مسئلہ پر پہل کرنے کی اپیل

    ملک کے تمام ریاستوں میں پندرہ نکاتی پروگرام کو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بہار میں بھی پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت کام کیا جانا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ ریاست کے چیف سکریٹری ہیں اور انہی کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے۔

    ملک کے تمام ریاستوں میں پندرہ نکاتی پروگرام کو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بہار میں بھی پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت کام کیا جانا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ ریاست کے چیف سکریٹری ہیں اور انہی کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے۔

    ملک کے تمام ریاستوں میں پندرہ نکاتی پروگرام کو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بہار میں بھی پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت کام کیا جانا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ ریاست کے چیف سکریٹری ہیں اور انہی کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے۔

    • Share this:
    اقلیتوں کے سلسلے میں سچر کمیٹی کی رپورٹ کے خلاصہ کے بعد اس وقت کی مرکزی حکومت نے نیا پندرہ نکاتی پروگرام بناتے ہوئے یہ یقین دلایا تھا کہ حکومت کی تمام اسکیموں میں اقلیتوں کو 15 فیصدی کی حصہ داری دی جائے گی۔ اس تعلق سے کئی اہم فیصلہ کئے گئے اور پندرہ نکاتی پروگرام میں تعلیم، معیشت، لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ فساد کے روک تھام پر خاص طور سے ترجیح دیا گیا۔ ملک کے تمام ریاستوں میں پندرہ نکاتی پروگرام کو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بہار میں بھی پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت کام کیا جانا ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ ریاست کے چیف سکریٹری ہیں اور انہی کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل کی جاتی ہے۔ پندرہ نکاتی پروگرام میں غریب عوام کے فلاح کا کئی منصوبہ ہے جس میں آنگن واڑی مراکز سے انکی مدد کرنے کے علاوہ اندرا آواس، کستوربا گاندھی بالیکا ودیالہ کا قیام اور اقلیتی علاقوں میں بینکوں کی شاخ قائم کرنا جیسے کئی کام کرنا ہے۔ جانکاروں کے مطابق اگر پندرہ نکاتی پروگرام کو ٹھیک سے صوبائی سطح پر نافذ کر دیا جائے تو چند سالوں میں اقلیتوں کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

    پندرہ نکاتی پروگرام نوکریوں میں بھی پندرہ فیصدی کی حصہ داری کو یقینی بنانے کی بات کرتا ہے لیکن نوکریوں میں اس نکات پر کتنا عمل ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن کا کہنا ہیکہ تعلیم کے تعلق سے پندرہ نکاتی پروگرام میں سب سے زیادہ بات کی گئی ہے لیکن دلچسپی کی کمی کے سبب اس پر کام نہیں ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمائل احمد کے مطابق حال کے دنوں میں خطہ افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ایسے میں پندرہ نکاتی پروگرام کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ شمائل احمد نے وزیر اعظم سے اس جانب پہل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ادھر جےڈی یو نے اس بات کو غلط بتایا ہے۔

    جےڈی یو ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہیکہ پندرہ نکاتی پروگرام یو پی اے کی حکومت کی جانب سے بنایا گیا تھا لیکن کبھی بھی اس حکومت نے اس پروگرام کو پورے ملک میں نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہیکہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اقلیتوں کا کام کیا ہے اور کوئ بھی شخص حکومت کی اسکیموں میں اقلیتوں کی 15 فیصدی کی حصہ داری کو دیکھ سکتا ہے۔ انکا کہنا ہیکہ اندرا آواس، سرب سکچھا یوجنا، روز گار، اساتذہ کی بحالی، پولیس کی بحالی، سڑک کی تعمیرات، گاؤں میں بجلی مہیاء کرانے سے لیکر اقلیتوں کو خود کفیل بنانے کے لئے قرض دینے کی اسکیم ہے اور ان تمام منصوبوں سے اقلیتی آبادی کو فائدہ ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہیکہ بہار میں پندرہ نکاتی پروگرام کے نشانہ کو حکومت نے پورا کیا ہے اور آئندہ بھی اقلیتوں کے فلاح کے سلسلے میں حکومت کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کی پندرہ نکاتی پروگرام میں بتایا گیا کام بہار میں نہیں ہو رہا ہے یہ پوری طرح سے غلط ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: