உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جانئے کیسے ایک مچھلی نے بدل دی مغربی بنگال کی ایک بزرگ خاتون کی زندگی

    جانئے کیسے ایک مچھلی نے بدل دی مغربی بنگال کی ایک بزرگ خاتون کی زندگی

    جانئے کیسے ایک مچھلی نے بدل دی مغربی بنگال کی ایک بزرگ خاتون کی زندگی

    انسان محنت کرتا ہے اس امید پر کہ اسے ترقی ملے گی۔ لیکن قسمت کی دیوی کب کس پر مہربان ہوجائے یہ کہنا مشکل ہے۔ بنگال کی ایک بزرگ خاتون پر قسمت نے کچھ ایسی ہی مہربانی کی ہے۔ بزرگ خاتون نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی ان کی زندگی میں ایسا بھی ہوگا۔

    • Share this:
    کولکاتہ۔ انسان محنت کرتا ہے اس امید پر کہ اسے ترقی ملے گی۔ لیکن قسمت کی دیوی کب کس پر مہربان ہوجائے یہ کہنا مشکل ہے۔ بنگال کی ایک بزرگ خاتون پر قسمت نے کچھ ایسی ہی مہربانی کی ہے۔ بزرگ خاتون نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی ان کی زندگی میں ایسا بھی ہوگا۔ اس بزرگ خاتون کی نہ کوئی لاٹری نکلی ہے نہ انہیں کوئی بڑا انعام ملا ہے بلکہ ایک مچھلی نے ان کی زندگی بدل دی ہے۔

    جی ہاں ایک مچھلی نے بنگال کی ایک بزرگ خاتون کی زندگی بدل دی ہے۔ وہ زندگی جس میں جینے کے لئے وہ دن رات محنت و مشقت کرتیں اور کسمپرسی کی زندگی گزارتی تھیں لیکن ان کی اسی محنت نے انہیں راتوں رات امیر بنا دیا ہے۔
    بنگال کے ساؤتھ چوبیس پرگنہ کے سندربن علاقے کی بزرگ خاتون پشپا ہمیشہ کی طرح مچھلی پکڑنے کے لئے ندی کی جانب گئیں جہاں اچانک انہیں ایک بڑی مچھلی تیرتی ہوئی نظر آئی۔ بس پھر کیا تھا پشپا نے ندی میں چھلانگ لگادی لیکن مچھلی اتنی وزنی تھی کہ پشپا کے لئے اکیلے مچھلی کو باہر نکالنا آسان نہیں تھا۔ انہوں نے لوگوں کی مدد سے مچھلی کو باہر نکالا جسے دیکھ کر ہر کوئی حیران تھا۔

    مچھلی کا وزن 52 کلو تھا۔ اس مچھلی نے پشپا کی زندگی بدل دی۔ 52 کلو وزنی اس مچھلی کو بھولا مچھلی کہا جاتا ہے جسے کھایا تو نہیں جاتا بلکہ اس مچھلی کو مختلف مقاصد کے لئے استمال کیا جاتا ہے۔ دوائیاں بنانے کے لئے بھولا مچھلی کافی اہم مانی جاتی ہے۔ خاص طور پر مچھلی کے چمڑے اور دیگر اعضاء کو میڈیسن بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ مچھلی کے چمڑے کی قیمت 80 ہزار ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مچھلی کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس کی پشپا کو منہ مانگی قیمت دی گئی۔ پشپا کو بھولا مچھلی کے لئے تین لاکھ روہئے کی قیمت ادا کی گئی ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: