உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Fisherman Shot Dead: بنگلہ دیشی سرحدکےقریب آسامی ماہی گیرکی ہلاکت، مقامی لوگوں نےلگایا BSF پرلگایاالزام

    علی نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے لیے بی ایس ایف کیمپ گئی تھی۔

    علی نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے لیے بی ایس ایف کیمپ گئی تھی۔

    علی نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے لیے بی ایس ایف کیمپ گئی تھی۔ تاہم بی ایس ایف نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ فائرنگ ان کے اہلکاروں نے کی تھی۔ ہم تحقیقات کر رہے ہیں اور تمام زاویوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ Fisherman Shot Dead

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Assam | Karnataka | Jammu | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      Fisherman Shot Dead: پولیس نے آج یعنی جمعرات کے روز بتایا ہے کہ آسام کے ضلع جنوبی سلمارا میں ہندوستان-بنگلہ دیش کی سرحد (India-Bangladesh border) پر ایک ماہی گیر کو ہلاک کر دیا گیا اور مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ اسے بی ایس ایف کے اہلکاروں نے گولی ماری تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی رات گڈولی گاؤں میں اس وقت پیش آیا جب ماہی گیر مانیر زمان (Maniruzzaman) مچھلی پکڑنے کے لیے معمول کے مطابق سمندر کے کنارے گیا ہوا تھا، اسی دوران اس کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

      پولیس نے بتایا کہ اس قتل پر ضلع میں کشیدگی پائی جا رہی ہے اور سرحدی دیہاتوں میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے، تاکہ کسی بھی طرح کی صورت حال سے نمٹا جائے۔ ضلعی عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ یہ بی ایس ایف اہلکاروں کے ساتھ غلط شناخت کا معاملہ ہو سکتا ہے کہ ماہی گیر کو اسمگلر ہونے کا شبہ ہے اور انھیں نے اس کو یہی سمجھ کر ہلاک کیا ہو۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Hyderabad : ٹی راجا سنگھ کے خلاف احتجاج جاری ، درجنوں مظاہرین کو کیا گیا گرفتار


      جنوبی سلمارہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (بارڈر) سیفور علی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ زخمی ماہی گیر اس دوران گر گیا اور اپنے گھر واپس جانے سے پہلے ہی راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں والوں نے الزام لگایا ہے کہ فائرنگ بی ایس ایف کے اہلکاروں نے کی تھی۔





      یہ بھی پڑھیں:Prophet Muhammad: راجہ سنگھ کے خلاف مزید 2 مقدمات درج، دوبارہ گرفتاری کا امکان



      علی نے بتایا کہ پولیس تفتیش کے لیے بی ایس ایف کیمپ گئی تھی۔ تاہم بی ایس ایف نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ فائرنگ ان کے اہلکاروں نے کی تھی۔ ہم تحقیقات کر رہے ہیں اور تمام زاویوں کو تلاش کر رہے ہیں۔

       
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: