ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں سیلاب کا قہر جاری، سینکڑوں گاؤں زیر آب، ہزاروں لوگ حکومت کی مدد کے منتظر

ندیوں میں طغیانی نے بہار میں سیلاب کی صورت حال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ موتیہاری کے مسلم اکثریتی اسمبلی حلقہ نرکٹیا کی حالت بیحد خراب ہے۔

  • Share this:
بہار میں سیلاب کا قہر جاری، سینکڑوں گاؤں زیر آب، ہزاروں لوگ حکومت کی مدد کے منتظر
بہار میں سیلاب کا قہر جاری، ہزاروں گاؤں زیر آب

پٹنہ۔ ندیوں میں طغیانی نے بہار میں سیلاب کی صورت حال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ موتیہاری کے مسلم اکثریتی اسمبلی حلقہ نرکٹیا کی حالت بیحد خراب ہے۔ سینکڑوں گاؤں میں پانی داخل ہوگیا ہے اور ہزاروں لوگ حکومت کی مدد کا انتظار کررہے ہیں۔ اسپتال، اسکول، گھر سب پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کسانوں کی کھیتی برباد ہو گئی ہے۔ باہر سے لوٹے علاقے کے مزدوروں کے پاس اب دو وقت کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے اب تک اس علاقے میں راحت کیمپ نہیں بنایا گیا ہے۔


نرکٹیا اسمبلی حلقہ کے ایم ایل اے ڈاکٹر شمیم احمد نے فوری طور پر ڈاکٹروں کی ٹیم علاقہ میں روانہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر ضلع انتظامیہ کی جانب سے ہوائی معائنہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ موتیہاری کے بنجریا بلاک کے سبھی گاؤں پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نیپال میں لگاتار بارش ہونے کے سبب صورت حال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ بنجریا سے نیپال کی دوری محض تیس کیلومیٹر کی ہے اور پہاڑوں کی دوری پچاس کیلومیٹر ہے۔ آرجے ڈی لیڈر عارف حسین کا کہنا ہیکہ نیپال کا پانی سب سے زیادہ موتیہاری کو مشکل میں ڈال رہا ہے۔ عارف حسین کا گھر بنجریا بلاک میں ہے اور ان کا گاؤں بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ سیاسی لیڈروں کے درمیان کورونا اور سیلاب کو لیکر سیاست کا بازار گرم ہے لیکن علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہیکہ سیاست چھوڑ کر ابھی سیاسی لوگوں کو انسانیت کی خدمات کرنی چاہئے لیکن اسمبلی انتخابات قریب دیکھ  کر سیاسی گلیاروں میں صرف سیاست کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ جبکہ لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے۔


جانکاروں کے مطابق سیلاب کی صورت حال مزید ایسی ہی بنی رہی تو لوگوں کو مزید مصیبت کا سامنا کرنا پڑےگا۔ خاص بات یہ ہیکہ علاج کا کوئی معقول انتظام نہیں ہونے سے لوگوں کی زندگی داؤ پر لگی ہے جبکہ سیلاب متاثرین کی مدد کے تعلق سے صرف اعلان کیا جارہا ہے لیکن زمین پر کچھ بھی نہیں ہے۔ برسر اقتدار پارٹی یہ بتانے میں مصروف ہیکہ نتیش کمار نے بہار کو بدل دیا ہے۔ وہیں اپوزیشن پارٹی بھی اس معاملے پر صرف سیاست کرتی نظر آرہی ہے۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 25, 2020 06:02 PM IST