ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

انٹرویو: کنہیا کمار نے کہا "مجھے ہندو مخالف بتاکربدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے"۔

بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے بیگوسرائے سے لوک سبھا امیدوار بنائے جانے کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد کنہیا کمارپوری طرح سے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوگئے ہیں۔

  • Share this:
انٹرویو: کنہیا کمار نے کہا
جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر کنہیا کمار۔ فائل فوٹو

جواہرلال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طلبہ یونین صدرکنہیا کمارآج کل بہارکے بیگوسرائے میں کیمپ کررہے ہیں۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے لوک سبھا امیدوار بنائے جانے کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد کنہیا پوری طرح سے الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوگئے ہیں اور دہلی سے بیگو سرائےپرتمام  توجہ مرکوزکرچکے ہیں۔


کبڈی ٹورنامنٹ سے لے کرسیاسی تقریب میں انہیں دیکھا جاسکتا ہے، لیکن بہارمیں بھی تنازعہ سے ان کا ناطہ ٹوٹتا نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کنہیا کمار کا کہنا ہے کہ ان کو بدنام کرنے کے لئے بی جے پی گہری سازش کررہی ہے۔ انہوں نے تمام مدعوں پرنیوز18 سے خاص بات چیت کی۔ ہمارے نمائندے آلوک کمارنے تفصیلی بات کی۔


آپ کے خلاف 24 گھنٹے کے اندر بہارمیں دو ایف آئی آردرج کرائی گئی۔ تازہ معاملہ بیگوسرائے میں ہوا تشدد ہے۔ 16 اکتوبرکی شام کیا ہوا تھا؟ 


ہم منسورچک سے تقریب کرکے لوٹ رہے تھے۔ بھگوان پورتھانے کے دہیا گاوں میں میرے قافلے پرحملہ کیا گیا۔ وہ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ اوربجرنگ دل کے کارکنان تھے۔ ان کی تصویریں سشیل مودی کے ساتھ ہیں۔ انہیں مقامی بی جے پی ایم ایل سی رجنیش کا تحفظ حاصل ہے، ان کی منشا ہی نقصان پہنچانے کی تھی۔

مقامی لوگوں کے مطابق آپ کے قافلے میں جو لوگ آپ کے ساتھ تھے، انہوں نے لوہے کی چھڑوں اورہاکی اسٹک سے حملہ کیا

کوئی مقامی لوگوں کا کہنا نہیں ہے۔ بی جے پی یوا مورچہ اوربجرنگ دل کا منصوبہ بند سیاسی حملہ ہے، تاکہ میری شبیہ اورکردارخراب کیا جائے، یہاں کا ماحول خراب کیا جائے۔ مذہبی  ماحول ہے تو یہ کیسے خراب کیا جائے اورمجھے ہندومخالف بتایا جائے، جس کی پٹائی ہوئی وہ کوئی غیرسیاسی شخص نہیں ہے۔ وہ بی جے پی یوا مورچہ  کا آدمی ہے، راڈ تھا، ڈنڈا تھا، پچاس آدمی تھے تو کسی ایک ہی آدمی کا سرپھوٹے گا۔ اگریہ سچائی ہوتی تو 50-40 آدمی کے سرپھوٹتے۔

آپ کیسے دعویٰ کرسکتے ہیں کہ بی جے پی یوا مورچہ اوربجرنگ دل کے لوگ وہاں سازش کے تحت جمے تھے؟ مقامی لوگ تو آپ پرانگلی اٹھارہے ہیں؟

مقامی لوگوں میں کوئی چرچا نہیں ہے۔ بی جے پی کے شدت پسند حامیوں نے ہوا بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہم بھی تواسی علاقے کے ہیں، ہم جانتے ہیں۔ یہ گاوں جو ہے دہیا۔ اس کی تاریخ جان لیجئے۔ یہاں کے دوچارخاندان پرانے وقت سے آرایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں۔ بھگوان پورچوک واحد ایسی جگہ ہے بیگوسرائے میں جہاں بجرنگ دل یا بی جے پی کا گڑھ ہے، یہ سیاسی حملہ ہے۔  پانچ منٹ کے اندرتمام بی جے پی لیڈروہاں کیسے پہنچ جاتے ہیں۔ مطلب یہ لوگ کہیں پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔

پٹنہ ایمس میں کیا ہوا تھا؟

مان لیجئے ہم گئے ہیں کسی سے ملنے کے لئے۔ ایمس میں گارڈ ہوگا۔ سی سی ٹی وی ہوگا۔ اگرہم 100 لوگ گھسے ہیں، ڈنڈا لے کرتوکوئی فوٹیج ہوگا نہ۔ اسپتال میں توکوئی بھی انجری رپورٹ بناسکتا ہے، لیکن وہ کہاں ہے۔ آپ ایمس پٹنہ کا آفیشیل فیس بک پیج دیکھئے۔ اس میں لکھا ہے اینٹی نیشنل کنہیا کمار۔ یہ سیاست سے اثراندازمعاملہ ہے، بی جے پی کے ڈاکٹروں نے کیا ہے۔

منگل پانڈے نے آپ کو وارننگ دی ہے، اس پرکیا کہیں گے؟

پہلے توانہوں نے کہا کہ ہم نہیں پہچانتے ہیں کنہیا کمارکون ہے؟ اب کہہ رہے ہیں جان لیں بہارجے این یونہیں ہے، تواب کیسے پہچان گئے۔ کوئی رشتہ داری ہوگئی ہے کیا۔ ان کا یہ بیان جو ہے، اسی سے متاثرہوکرمیرے خلاف مقدمہ کیا گیا۔ اورجوایم ایل سی یہاں بیگوسرائے میں سازش کئے وہ منگل پانڈے کے آدمی ہیں۔

عدالت میں وکیل، ایمس میں ڈاکٹر، جے این یومیں پی ایچ ڈی روکنے کے لئے وائس چانسلر اور بہارمیں سیاسی مفاد کے لئے درگا جی کا استعمال کررہے ہیں۔ ہم تومندر بھی جائیں گے، سماجی کام ہے، لوگ بلاتے ہیں جائیں گے۔ مندر، مسجد گرجا ہرجگہ جائیں گے۔

تو کیا انتخابی سیاست میں آپ ایسی ہی شروعات چاہتے تھے؟

آپ ہی سوچئے، جس کو سیاست کرنی ہے۔ الیکشن لڑنا ہے، وہ مارپیٹ کرے گا۔ وہ بھی پوجا پنڈال میں جاکرمارپیٹ کرے گا اوراپنے ہی علاقے میں کرے گا۔ مارپیٹ کرنا ہوگا تو بی جے پی لیڈرکے گھرپرجاکرکرے گا۔

بیگو سرائے میں آپ کیسا فیڈ بیک مل رہا ہے؟

بیگو سرائے میں لوگ بے وقوف نہیں ہیں۔ یہاں کے لوگ سب سمجھتے ہیں، جب ملک مخالف ہونے کی سازش رچی گئی، تب بھی یہاں کے لوگ بہکاوے میں نہیں آئے، یہ لوگ ہم کو پھنسانا چاہتے ہیں۔ ہم آئین اورقانون کے مطابق ہی کام کریں گے۔ پہلے یہ ملک مخالف بنانے کی کوشش کررہے تھے، اب غنڈہ بنانے کی سازش ہورہی ہے، جتنے طریقے سے بدنام کرنے کی کوشش کرنا ہے کرلیں۔ اس وقت بھی منہ کی کھانی پڑی تھی، پھرمنہ کی کھانی پڑے گی۔ پیتل کو سونا نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

جے این یو کی سیاست اور بیگوسرائے کی سیاست میں کیا فرق نظرآرہا ہے؟

ہمارے لئے کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم اپنے اصولوں سے ہٹیں گے نہیں، جیسے وہاں کام کررہے تھے، اب یہاں کررہے ہیں۔ فرق کیا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:     بیگوسرائے سے لوک سبھا الیکشن لڑیں گے جے این یوطلبہ یونین کے سابق صدرکنہیا کمار!۔

یہ بھی پڑھیں:    کنہیا کمار کے خلاف جے این یو کی کارروائی پر ہائی کورٹ کی روک
First published: Oct 19, 2018 07:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading