ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

گری راج کا متنازعہ بیان، ایک طبقہ آبادی کنٹرول کے تئیں سنجیدہ نہیں، آبادی کنٹرول قانون بنانے کی وکالت

دربھنگہ ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیرمملکت برائے مائیکرو اسکیل اینڈ میڈیم انٹرپرائزز گری راج سنگھ نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے اور مسلمانوں کا نام لئے بغیر کہا کہ اس ملک میں ایک کمیونٹی آبادی کنٹرول کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے، تو آبادی کنٹرول کے لئے فوری طور پر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 05, 2016 09:59 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
گری راج کا متنازعہ بیان، ایک طبقہ آبادی کنٹرول کے تئیں سنجیدہ نہیں، آبادی کنٹرول قانون بنانے کی وکالت
دربھنگہ ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیرمملکت برائے مائیکرو اسکیل اینڈ میڈیم انٹرپرائزز گری راج سنگھ نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے اور مسلمانوں کا نام لئے بغیر کہا کہ اس ملک میں ایک کمیونٹی آبادی کنٹرول کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے، تو آبادی کنٹرول کے لئے فوری طور پر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

دربھنگہ ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیرمملکت برائے مائیکرو اسکیل اینڈ میڈیم انٹرپرائزز گری راج سنگھ نے ایک بار پھر متنازعہ بیان دیا ہے اور مسلمانوں کا نام لئے بغیر کہا کہ اس ملک میں ایک کمیونٹی آبادی کنٹرول کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے، تو آبادی کنٹرول کے لئے فوری طور پر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

مسٹر سنگھ نے  یہاں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں روز بروز بڑھتی ہوئی آبادی سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے بے قابو آبادی کے لئے ایک خاص کمیونٹی پر ٹھیکرا پھوڑتے ہوئے کہا کہ ایک کمیونٹی کے لوگ تو دو بچوں کے نعرے پر عمل کر رہے ہیں، لیکن دوسرے کمیونٹی کے لوگ اس سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ جب بھی انہیں کچھ کہا جاتا تو اس کے نفاذ اور مذہب کا حوالہ دے کر تنازع پیدا کر دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک بچہ ان کی انگلی پکڑے چلتا ہے تو دوسرا کندھے پر بیٹھا رہتا ہے تیسرا بچہ گود میں ہوتا ہے تو چوتھا بچہ پیٹ میں ہوتا ہے اور ایک بچہ ان کے پیچھے بھی چلتا ہے۔ انہوں نے اسٹیج سے ہی آبادی کنٹرول قانون بنانے کی بھی وکالت کی۔


مسٹر سنگھ نے خود کو ہندوؤں کا بڑا حامی بتاتے ہوئے کہا کہ صرف بنگلہ دیش اور پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی کونے سے جب بھی کوئی ہندو ہندوستان آئے گا تو اسےقانوناً رہنے ہی کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے اشاروں ہی اشاروں میں جموں کشمیر کے سلسلے میں بھی سخت لہجے میں کہا کہ ہندوستان میں دو قانون ، دو نشانات، دو سربراہ نہیں چلے گا۔


اس سے پہلے میڈیا سے بات چیت میں مسٹر سنگھ نے سابق وزیر اعلی جتن رام مانجھی کے وزیر اعلی نتیش کمار کے تئیں نرمی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ مسٹر مانجھی قومی جمہوری اتحاد (یو پی اے) کے ساتھی تھے، انتخابات بھی لڑے۔ اب ان کی پارٹی یا وہ خود کہیں دوسری پارٹی میں جانا چاہتے ہیں تو ان کو آزادی ہے۔

First published: Jul 05, 2016 09:59 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading