உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حاجی غوثن وقف اسٹیٹ کے پاس ہے کروڑوں کی جائیداد، مگر مسجد کا معمولی تعمیراتی کام بھی ہوتا ہے عوامی عطیات سے

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورضلع میں سنی وقف اسٹیٹ کی سیکڑوں ایکڑزمین ہے۔ لیکن ضلع کی زیادہ تروقف املاک پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے ۔جواراضی بچی بھی ہیں ، وہ متولی شپ کے تنازع کاشکار ہیں۔ انہیں میں سے ایک مظفرپورضلع کے بوچہا بلاک میں واقع حاجی غوثن وقف اسٹیٹ بھی ہے۔

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورضلع میں سنی وقف اسٹیٹ کی سیکڑوں ایکڑزمین ہے۔ لیکن ضلع کی زیادہ تروقف املاک پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے ۔جواراضی بچی بھی ہیں ، وہ متولی شپ کے تنازع کاشکار ہیں۔ انہیں میں سے ایک مظفرپورضلع کے بوچہا بلاک میں واقع حاجی غوثن وقف اسٹیٹ بھی ہے۔

    مظفرپور : بہارکے مظفرپورضلع میں سنی وقف اسٹیٹ کی سیکڑوں ایکڑزمین ہے۔ لیکن ضلع کی زیادہ تروقف املاک پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے ۔جواراضی بچی بھی ہیں ، وہ متولی شپ کے تنازع کاشکار ہیں۔ انہیں میں سے ایک مظفرپورضلع کے بوچہا بلاک میں واقع حاجی غوثن وقف اسٹیٹ بھی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      مظفرپور : بہارکے مظفرپورضلع میں سنی وقف اسٹیٹ کی سیکڑوں ایکڑزمین ہے۔ لیکن ضلع کی زیادہ تروقف املاک پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے ۔جواراضی بچی بھی ہیں ، وہ متولی شپ کے تنازع کاشکار ہیں۔ انہیں میں سے ایک مظفرپورضلع کے بوچہا بلاک میں واقع حاجی غوثن وقف اسٹیٹ بھی ہے۔


      بوچہابلاک کے شرف الدین پورپنچایت میں گوپال نامی ایک گاؤں ہے۔ گوپال پورگوپال میں حاجی غوثن وقف اسٹیٹ کی تقریباًساڑھے سات ایکڑ زمین ہے۔ چار ایکڑ زمین مظفرپور سے دربھنگہ جانے والی قومی شاہراہ نمبر 57 کے کنارے ہے۔تین ایکڑزمین گوپال پورگوپال گاؤں کے رہائشی علاقے اور مقامی بازارمیں ہے۔ حاجی غوثن وقف اسٹیٹ کی نصف ایکڑ زمین پر بازار تعمیر کیا جاچکا ہے۔ باقی تقریباًسات ایکڑزمین پرکھیتی ہوتی ہے۔ زرعی زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پرلیچی کا باغیچہ بھی ہے۔


      الغرض حاجی غوثن وقف اسٹیٹ کی املاک کافی قیمتی ہیں اوریہ ماہانہ تقریباً ایک لاکھ روپے کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ حاجی غوثن وقف اسٹیٹ کی املاک بہاراسٹیٹ سنی وقف بورڈمیں 446 نمبرسے درج ہے۔


      حاجی غوثن وقف اسٹیٹ کی ڈیڈیعنی وقف نامہ کے مطابق حاجی غوثن وقف املاک سے گوپال پور گوپال کی مسجد کی تعمیر و توسیع، مسجد کے دیگر اخراجات، امام اور مؤذن کی تنخواہ اوراس کے علاوہ غریبوں، مسکینوں اور معذوروں کی امدادکی جانی ہے۔


      لیکن اس کی آمدنی سے کسی طرح کافلاحی کام زمین پرنظرنہیں آ رہا ہے۔ صرف مسجد کے امام کوماہانہ پانچ ہزار روپے تنخواہ دی جارہی ہے۔ مسجد میں ہونے والے روزمرہ کے اخراجات یہاں تک کہ مسجد میں معمولی تعمیراتی کام بھی عوامی عطیات سے ہی ہورہاہے۔

      First published: