ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مسلم نوجوان نے خون کا عطیہ کر کے بچائی بون میرو سے متاثر ہندو کی جان، قائم ہوئی مثال

ایک طرف جہاں مذہب کے سبب عام لوگوں کے بیچ دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ وہیں جموئی ضلع کے ایک مسلم نوجوان نے ایک بیمار ہندو نوجوان کو خون کا عطیہ کر کے مثال پیش کی ہے۔

  • Share this:
مسلم نوجوان نے خون کا عطیہ کر کے بچائی بون میرو سے متاثر ہندو کی جان، قائم ہوئی مثال
خون کا عطیہ کرتے محمد جاوید

جموئی۔ ایک طرف جہاں مذہب کے سبب عام لوگوں کے بیچ دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ وہیں جموئی ضلع کے ایک مسلم نوجوان نے ایک بیمار ہندو نوجوان کو خون کا عطیہ کر کے مثال پیش کی ہے۔ دراصل، جموئی ضلع کے جھاجھا علاقے کے رہنے والے نوجوان محمد جاوید (26) کو جیسے ہی یہ اطلاع ملی کہ جھاجھا علاقے کے ایک نوجوان سنیل کمار کو خون کی ضرورت ہے تو اس نے جموئی صدر اسپتال میں جا کر خون کا عطیہ کیا۔ پیشے سے استاذ جاوید کے اس پہل کی ستائش کی جا رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جاوید اور سنیل کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے۔ خون عطیہ کے بعد وہی خون بیمار ضرورت مند سنیل کمار کو چڑھایا گیا۔


دراصل، بیمار نوجوان سنیل بون میرو میں انفیکشن کی زد میں ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے جسم میں خون نہیں بن رہا ہے اور اسے علاج کے لئے اسی مہینے دہلی کے ایمس جانا ہے، لیکن علاج میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سنیل کی حالت بگڑ گئی۔


طبیعت بگڑتا دیکھ کر جھاجھا کی ایک تنظیم کے پانچ خون عطیہ کرنے والوں نے خون عطیہ کر کے ابھی تک اس کی جان بچا رکھی ہے۔ وہیں محمد جاوید چھٹویں ایسے شخص ہیں جو سنیل کمار کی زندگی بچانے کے لئے آگے آئے اور خون کا عطیہ کر کے ایک مثال پیش کی ہے۔ محمد جاوید کا کہنا ہے کہ خون کا عطیہ کر کے اسے بہت خوشی مل رہی ہے۔ انہوں نے خون عطیہ کرنے کو لے کر بیداری مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔

First published: Jan 11, 2020 07:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading