உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کولکاتہ یونیورسٹی کی 159سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دعوت افطار کا اہتمام

    کولکاتہ : ایشیا کی پہلی یونیورسٹی آف کلکتہ کی 159سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا نہ صرف یونیورسٹی کے کمیپس میں بلکہ بنگال کے سرکردہ دانشور طبقے نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔

    کولکاتہ : ایشیا کی پہلی یونیورسٹی آف کلکتہ کی 159سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا نہ صرف یونیورسٹی کے کمیپس میں بلکہ بنگال کے سرکردہ دانشور طبقے نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔

    کولکاتہ : ایشیا کی پہلی یونیورسٹی آف کلکتہ کی 159سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا نہ صرف یونیورسٹی کے کمیپس میں بلکہ بنگال کے سرکردہ دانشور طبقے نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      کولکاتہ : ایشیا کی پہلی یونیورسٹی آف کلکتہ کی 159سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ دعوت افطار کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا نہ صرف یونیورسٹی کے کمیپس میں بلکہ بنگال کے سرکردہ دانشور طبقے نے اس کا خیر مقدم کیا ہے ۔اس دعوت میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سوگاتا مرجیت ، رجسٹرار سومانا بنرجی ، پروائس چانسلر ، ریاستی وزیر مولانا صدیق اللہ چودھری اورراجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ و بنگلہ روزنامہ قلم کے ایڈ یٹر احمد حسن عمران نے شرکت کی ۔
      کلکتہ یونیورسٹی کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کئی مرتبہ یونیورسٹی کیمپس میں دعوت افطار کے اہتمام کی کوشش کی گئی مگر یونیورسٹی انتظامیہ کی مخالفت کی وجہ سے اس پروگرام کو رد کیا جاتا جارہا ہے ، یونیورسٹی کیمپس میں سرسوتی پوجا کے انعقاد کے علاوہ دیگر مذہبی تقریبات کا انعقاد نہیں ہوتا ہے ۔
      مذہبی تقریبات سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی یونیورسٹی کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں یونیورسٹی کے شعبہ عربی و فارسی کے سابق طلباء کے زیر اہتمان اس دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا ۔
      یونیورسٹی کی رجسٹرار سوما بنرجی جو اردو، فارسی ، عربی سمیت 7زبانوں کی ماہر ہیں نے دعوت افطار کو بھائی چارہ اور ہم آہنگی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ روزہ انسانیت کو ایک دوسرے کے قریب اور ان کے مسائل و مشکلات کو جاننے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ اس کا اہتمام کیا گیا ہے مگر یہ سلسلہ جارہی رہے گا ۔انہوں نے یونیورسٹی کے طلباء کے درمیان دوریاں کم ہوں گی اور محبت کی فضا بحال ہوگی ۔
      یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سوگاتا مرجیت نے رمضان کے روزے کو قربانی، ایثار اور بھائی چارہ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے شعبہ عربی و فارسی کے سابق طلباء نے اس دعوت کا اہتمام کیا ہے ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔یہ ایک اچھی پہل ہے ۔روزہ ، افطار کا ایک پہلو جہاں مذہبی ہے وہیں اس کا ایک دوسرا سماجی پہلو بھی ہے ۔
      روزہ ایثار، قربانی اور بھائی چارہ کا فروغ دیتا ہے ۔سماج کے دبے کچلے افراد کے ساتھ اظہار یکسانیت کی نصیحت کرتا ہے ۔اس لیے اس طرح کے دعوت کے اہتمام میں کوئی حرج نہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔انہوں نے یونیورسٹی کے شعبہ عربی و فارسی کو یونیورسٹی کا باوقار شعبہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس شعبہ کی 130سالہ تاریخ ہے اور یہاں سے بڑے فاضل اسکالر پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس شعبہ کو مزید فروغ دینے کیلئے عربی اور فارسی دونوں کو الگ الگ شعبے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہاں سے ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی ہوں گے ۔
      ممبر پارلیمنٹ اور بنگلہ روزنامہ اخبار قلم کے ایڈیٹر احمد حسن عمران نے کہا کہ رمضان کا آفاقی پیغام ہے ۔ایک مہینے کے ر وزے کے ذریعہ انسانیت کے مسائل و مشکلات اور سماج کے دبے کچلے افراد کے ساتھ اظہار یگانت کا پیغام دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام ایک یونیورسل مذہب ہے جس کا مقصد پوری انسانیت کی خیر وفلاح ہے ۔انہوں نے یونیورسٹی کے کیمپس میں دعوت افطار کے اہتمام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی پہل ہے انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی کی فضا میں بھائی چارہ اور ہم آہنگی کا پیغام عام ہوگا ۔
      خیال رہے کہ کلکتہ یونیورسٹی کے لوگوں کو لے کر بھی ایک زمانے میں تحریک چلی تھی ۔غیر منقسم بنگال کے مشہور اخبار دینک آزاد کے ایڈیٹر مولانا اکرام خان نے یونیورسٹی کے لوگوں میں کمل کا پھول ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھاکہ کلکتہ یونیورسٹی ایک سیکولر یونیورسٹی ہے اس لیے اس کا لوگو کسی خاص مذہب کی شناخت کیسی ہوسکتی ہے ۔ان کی اس تحریک کی وجہ سے ہی بعد میں انتظامیہ کمل پھول کے نشان میں تبدیلی کردی تھی۔اس کے علاوہ ڈاکٹر شہید اللہ جو بنگال کے مشہور و معروف اسکالر تھے کو تقرری ہونے کے باوجود شعبہ سنسکرت میں پڑھانے نہیں دیا گیا تھا کہ ایک مسلم اسکالر سنکرت کیسے پڑھا سکتا ہے ۔بعد میں ان کیلئے ایک الگ شعبہ بنایا گیا تھا ۔کلکتہ یونیورسٹی کے 159سالہ تاریخ میں دو مسلم سر ڈاکٹر حسن سہروردی اور سر ڈاکٹر عزیز الحق وائس چانسلر ہوچکے ہیں مگرا ن کے دور میں بھی یونیورسٹی کیمپس میں دعوت افطار کے اہتمام کی اجازت نہیں ملی تھی۔
      First published: