உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار میں کسانوں کا لیر فارم کا کاروبار ایک بار پھر سے پٹری پر آنے لگا ہے

    بہار میں کسانوں کا لیر فارم کا کاروبار ایک بار پھر سے پٹری پر آنے لگا ہے

    بہار میں کسانوں کا لیر فارم کا کاروبار ایک بار پھر سے پٹری پر آنے لگا ہے

    بہار کے کسانوں کا کہنا ہیکہ لیر فارم کا کام فائدہ مند ہے لیکن بہار حکومت کو اس کام سے جڑے لوگوں کی مدد کرنی چاہئے خاص طور سے تب جب لیر فارم کا کام بےروزگاروں کو روزگار فراہم کرانے کا بھی بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔

    • Share this:
    بہار میں گزشتہ دو سال پہلے لیر فارم کا نیا کاروبار شروع  ہوا تھا۔ اس کاروبار سے عام طور پر اقلیتی سماج کے لوگ جڑے ہیں۔ بہار میں روزانہ ایک کروڑ چالیس لاکھ انڈے کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ بہار کے لیر فارم صرف تیس لاکھ انڈا کا پیداوار کر پاتے ہیں باقی انڈے پنجاب اور آندھرا پردیش سے یہاں آتے ہیں۔ کورونا کی مدت میں انڈے کی قیمت کم ہونے سے لیر فارم کے کاروبار بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں، یہاں تک کہ یہ کاروبار بند ہونے کی کگار پر کھڑا ہوگیا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ کام پھر سے پٹری پر آنے لگا ہے۔

    لیر فارم کا کام بہار میں  2015 میں شروع ہوا تھا لیکن اس کاروبار میں دو سال سے تیزی آئی ہے۔ ایک لیر فارم قائم کرنے میں ایک کروڑ روپئے کا خرچ آتا ہے۔ لیر فارم قائم کرنے پر تیس فیصدی کی سبسڈی دوسرے صوبوں میں ملتی ہے لیکن بہار کے کسانوں کو سبسڈی برائے نام مل پاتی ہے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے کسانوں کو کسی طرح کی کوئی دوسری سہولت حاصل نہیں ہے۔

    لیر فارم کے مالکان کا کہنا ہیکہ حکومت کی مدد کے بغیر کسانوں کا یہ کاروبار سیکڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرا رہا ہے۔ حالانکہ بہار میں ایک دن میں جتنے انڈوں کی ضرورت ہے اس اعتبار سے ابھی بھی پیداوار کافی کم ہے۔ اس کا مطلب ہیکہ اس کاروبار میں ابھی کافی موقع ہے۔ اگر کوئی لیر فارم کی جانب راغب ہوتا ہے تو اس کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہیکہ انڈے کی قیمت بہار کے کسان طے نہیں کرتے ہیں اس کی قیمت پنجاب کے کسان طے کرتے ہیں۔ پنجاب کے کسانوں کے منمانا انڈے کا ریٹ طے کرنے سے بہار کے کسانوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ بہار کے لیر فارم میں ایک انڈے کی قیمت فی الحال پانچ روپیہ ہے، ایک کارٹون میں دو سو دس انڈا ہوتا ہے اور ایک دن میں ایک ایک فارم ایک سو کارٹون انڈا فروخت ہوتا ہے یعنی ایک چھوٹے لیر فارم کی آمدنی ایک دن میں ایک لاکھ روپیوں سے زیادہ ہے۔

    بہار کے لیر فارم روزانہ تیس لاکھ انڈے کا پیداوار کر پاتے ہیں جبکہ بہار میں ایک دن میں انڈے کی کھپت ایک کروڑ چالیس لاکھ ہے۔ اس حساب سے دیکھیں تو بہار کے لیر فارم کا مجموعی کاروبار ایک دن میں ایک کروڑ پچاس لاکھ روپیوں کا ہوتا ہے جبکہ باقی انڈا پنجاب اور آندھرا پردیش سے آتا ہے۔ ایک کروڑ چالیس لاکھ انڈے کی کھپت والے بہار میں تیس لاکھ انڈے کی ضرورت بہار پورا کرتا ہے اور باقی پنجاب اور آندھرا پردیش کے کسان۔ اس طرح سے پنجاب اور آندھرا پردیش کے کسانوں کا بہار میں روزانہ قریب پانچ کروڑ پچاس لاکھ کا کاروبار ہوتا ہے۔

    بہار کے کسانوں کا کہنا ہیکہ لیر فارم کا کام فائدہ مند ہے لیکن بہار حکومت کو اس کام سے جڑے لوگوں کی مدد کرنی چاہئے خاص طور سے تب جب لیر فارم کا کام بےروزگاروں کو روزگار فراہم کرانے کا بھی بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: