உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات میں سرعام مسلمانوں کو کوڑے مارے گئے! اور لگے بھارت ماتا کی جئے کے نعرے

    تصویر اسکرین گراب

    تصویر اسکرین گراب

    پولیس کے مطابق پتھراؤ میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے پتھر پھینکنے کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کیا اور انہیں عدالت میں لے جانے کے بجائے منگل کو گاؤں لے آئی اور وہاں سر عام گوڑے برسائے گئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Delhi | Jammu | Hyderabad | Kambe (in: Kalyan subdistrict)
    • Share this:
      گجرات میں پولیس اہلکاروں نے ہندوؤں کی ایک مذہبی تقریب میں پتھراؤ کے الزام میں نو مسلمانوں کو سرعام کوڑے مارے ہیں۔ پولیس کو کوڑے مارنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جس پر سیاست دانوں اور شہری حقوق کے کارکنوں کی طرف سے یکساں تنقید کی گئی۔ گجرات کے کھیڈا ضلع کے اندھیلا گاؤں میں نوراتری کی تقریبات کے دوران گربا پروگرام میں پیر کو پتھراؤ کی اطلاع ملی۔ یہ تقریب مسجد کے قریب ایک مقام پر منعقد ہوئی۔

      گربا ایک قسم کا رقص ہے جو نوراتری کے دوران پیش کیا جاتا ہے، یہ ایک ہندو تہوار ہے، جس میں ہندو دیوی درگا کی تعظیم کی جاتی ہے۔ پولیس کے مطابق پتھراؤ میں کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے پتھر پھینکنے کے الزام میں نو افراد کو گرفتار کیا اور انہیں عدالت میں لے جانے کے بجائے منگل کو گاؤں لے آئی اور وہاں سر عام گوڑے برسائے گئے۔

      کھمبے سے باندھ دیا گیا:

      اس کے بعد مسلمان مردوں کو ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا اور مقامی لوگوں کی خوشی کے درمیان پولیس نے انہیں سرعام کوڑے مارے، جنہوں نے مبینہ طور پر بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگائے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وی آر باجپئی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مسلم نوجوانوں کے ایک گروپ نے گاؤں میں جشن میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ مسلم نوجوانوں کو مسجد کے قریب اس جشن کے انعقاد پر اعتراض تھا۔


      کانگریس کے ایک اور رہنما کارتی پی چدمبرم نے ٹویٹر پر حکمراں دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ہندوستان کو ہندوتوا (ہندو بنیاد پرست) ریاست میں تبدیل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے پوچھا کہ اس کے بعد کیا ہوگا؟ سرعام سر قلم کیا جائے گا؟ اور نعرے بلند کیے جائیں گے؟

      ’’پولیس کو سرعام ملزم کے خلاف ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں‘‘

      پولیس کے مطابق متر تھانے میں 43 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے 13 کو گرفتار کر لیا گیا۔ دریں اثناء اپوزیشن کانگریس پارٹی کے گجرات کی قانون ساز اسمبلی کے رکن غیاث الدین شیخ نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے احمد آباد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت کو فوری طور پر ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو کوڑے مارنے میں ملوث ہیں۔ پولیس کو سرعام ملزم کے خلاف ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

      ایک بیان میں انڈین امریکن مسلم کونسل (IAMC) نے بھی پولیس کی کارروائی پر تنقید کی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی کی حکومت والی ریاست گجرات میں پولیس نے ’ہیل مدر انڈیا‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ہجوم کے سامنے 9 مسلم مردوں کو سرعام کوڑے مارے۔ یہ ظالمانہ، غیر انسانی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت ممنوع ہے۔

      19 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج:

      ہندوستان کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس نے تین مسلمانوں کے گھروں کو گرا دیا جن پر ایک گربا تقریب میں پتھراؤ کرنے اور منتظمین پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ مندسور ضلع کے سرجانی گاؤں میں گربا کی تقریب میں خلل ڈالنے پر 19 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      پولیس نے دعویٰ کیا کہ مکانات غیر قانونی طور پر بنائے گئے تھے اس لیے انہیں گرا دیا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: