உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستانی ریلوے نے شمالی بنگال میں متعارف کرایا وسٹاڈم کوچ، جانئے پوری تفصیل

    ہندوستانی ریلوے نے شمالی بنگال میں متعارف کرایا وسٹاڈم کوچ، جانئے پوری تفصیل

    ہندوستانی ریلوے نے شمالی بنگال میں متعارف کرایا وسٹاڈم کوچ، جانئے پوری تفصیل

    اس کوچ کو شمالی بنگال میں جنگلات ، چائے کے باغات اور دریاؤں کی خوبصورتی کے پیش نظر سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : انڈین ریلوے (Indian Railways) نے نیو جلپائی گڑی سے علی پوردوار کے درمیان چلنے والی ٹرین میں پرتعیش وسٹاڈم کوچز (luxurious Vistadome coaches) متعارف کرایا ہے۔ اس کوچ کو شمالی بنگال میں جنگلات ، چائے کے باغات اور دریاؤں کی خوبصورتی کے پیش نظر سیاحوں کو راغب کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ ٹرین نیو جلپائی گوڑی سے علی پوردوار تک چلے گی اور اس میں 2AC اور نان ای سی چئیر کار ہے۔ ٹرین کو مرکزی وزیر جان برلا نے جھنڈی دکھائی۔ شمالی بنگال سے بی جے پی کے دو دیگر ایم ایل اے کے ساتھ جلپائی گوڑی رکن اسمبلی جینتا کھلونا بھی موجود تھے۔

      وسٹاڈم ، مسافروں کو کوچ کے اندر بیٹھ کر علاقے کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کا موقع دیتا ہے۔ یہاں خصوصی سیلفی زون کا انتظام کیا گیا ہے اور وائی فائی کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ سیٹ 360 ڈگری کے گرد گھوم سکتی ہے۔ ایک شخص کے لیے وسٹا ڈم کوچز کے لیے 770 روپے ، اے سی کرسی کے لیے 310 روپے اور نان اے سی کے لیے 85 روپے ہیں۔ ٹرین سفر کے پہلے دن بھری ہوئی تھی۔

      اگلے چار دوروں کے لیے بھی بکنگ مکمل ہے ۔کیونکہ ٹرین جمعہ ، ہفتہ اور اتوار کو چلے گی۔ یہ ٹرین نیو جلپائی گوڑی سے شروع ہو گی اور سیبک ، نیو مال ، ہاسیمارا ، راجا بھٹخاوا سے علی پوردوار تک کا سفر کرے گی۔ ٹرین میں سفر کرنے والی ششمتا گھوش نے کہا کہ ’’ اس جگہ کا دورہ کرنا بہت اچھا لگتا ہے ، ہم اس دن کا انتظار کر رہے تھے‘‘۔

      وزیر جان برلا نے کہا کہ اس سے اس علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور ہم یہ چاہتے ہیں ۔ ڈی آر ایم ریلوے ایم ایس کے چودھری نے کہا کہ ’’ہم مانگ پر غور کریں گے اور اس کے مطابق کوچز کی تعداد میں اضافہ کریں گے‘‘۔ اضافی چارجز کے ساتھ ٹرین میں چائے ، ناشتے اور ناشتہ بھی دستیاب ہے۔ درگا پوجو سے پہلے یہ سروس یقینی طور پر اس علاقے کی سیاحت کو فروغ دے گی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: