ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کا دعوی کھوکھلا ، ایک سال میں ایک بھی شخص کو نہیں ملا قرض

مالی سال 2019-20 میں بہار حکومت نے سو کروڑ روپے اقلیتوں کو خود کفیل بنانے کے نام پر دیا۔ پورے سال اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کام کرتا رہا ، لیکن ایک بھی شخص کو ایک روپے تقسیم نہیں کرسکا ۔

  • Share this:
بہار میں اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کا دعوی کھوکھلا ، ایک سال میں ایک بھی شخص کو نہیں ملا قرض
بہار میں اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کا دعوی کھوکھلا ، ایک سال میں ایک بھی شخص کو نہیں ملا قرض

بہار میں اقلیتوں کی فلاح کے نام پر حکومت کی جانب سے درجنوں اسکیمیں چلائی جارہی ہیں ، جس میں سب سے اہم منصوبہ وزیر اعلیٰ قرض اسکیم ہے ۔ اہم اسلئے ہے کہ اس اسکیم کے تحت بے روزگار اقلیتی نوجوانوں کو روزگار قائم کرنے کے لئے ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک چھ فیصدی شرح سود پر قرض ملتا ہے ۔ بہار کے وزیر اعلیٰ اس اسکیم کے بہانے اقلیتی نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن حالت دیکھئے کیا ہے۔ مالی سال 2017-18 میں بھی کارپوریشن کو ایک سو کروڑ روپے ملا تھا ، لیکن کارپوریشن کی جانب سے اس وقت بھی ایک روپے تقسیم نہیں کیا جاسکا ۔


اقلیتی سماج کے رہنماؤں نے تب بھی یہ سوال اٹھایا تھا اور محکمہ اقلیتی فلاح اور حکومت کو اس جانب پہل کرنے کی اپیل کی تھی ۔ وزیر اعلیٰ کو ان کے وعدوں کی یاد دلائی گئی تھی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ بہار میں تقریبا ساٹھ فیصدی اقلیتی آبادی کا تعلق کھیتی مزدوری سے ہے ۔ اگر انہیں وقت پر قرض مہیا کیا جائے ، تو اقلیتی نوجوان نہ صرف اپنا روزگار قائم کرسکتے ہیں ، بلکہ دوسروں کے لئے بھی روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں ۔ اس کے بعد حکومت سنجیدہ ہوئی اور اس اسکیم کو ہر حال میں زمین پر لاگو کرانے کا اعلان کیا ۔


مالی سال 2018-19 میں قرض اسکیم کے تحت بجٹ میں پھر سے سو کروڑ روپے مختص کئے گئے ۔ قرض کو تقسیم کرنے کا بیڑا خود محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر خورشید عرف فیروز احمد نے اٹھایا اور ریاست کے تمام ضلعوں میں کیمپ لگا کر قرض تقسیم کرنے کا اعلان کیا ۔ کئی ضلعوں میں کیمپ لگائے بھی گئے ، لیکن اتنی کوششوں کے بعد بھی اس رقم کا محض بیس فیصدی حصہ تقسیم ہوسکا۔


مالی سال 2019-20  میں بھی حکومت نے سو کروڑ روپے اقلیتوں کو خود کفیل بنانے کے نام پر دیا۔ پورے سال اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کام کرتا رہا ، لیکن ایک بھی شخص کو ایک روپے تقسیم نہیں کرسکا ۔ یعنی سو کروڑ روپے جو مختص کئے گئے تھے ، اس میں ایک روپے بھی خرچ نہیں ہوسکا اور وہ پوری رقم اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے کھاتے میں جمع رہی اور آج بھی موجود ہے۔

رواں مالی سال اب شروع ہوگیا ہے اور اس مالی سال میں بھی کارپوریشن کو سو کروڑ روپے ملنے والا ہے ۔ کارپوریشن کی انتظامیہ کے مطابق اب قرض کے تقسیم میں تاخیر نہیں کی جائے گی اور پوری رقم ہر حال میں ضرورتمندوں کے درمیان تقسیم کی جائے گی ۔ محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر کا بھی دعویٰ ہے کہ قرض اسکیم کی پوری رقم کی تقسیم ہوگی ، لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ صرف دعوے اور وعدوں سے ہی کام ہونا رہتا ، تو اس اسکیم کی مد میں مختص رقم ہر سال تقسیم ہو جاتی ۔ لیکن اس معاملہ میں کارپوریشن سے لے کر محکمہ اقلیتی فلاح سنجیدہ نظر نہیں آتا ہے ۔
First published: Apr 04, 2020 09:47 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading