ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مغربی بنگال میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قرار داد منظور ہونے پر جماعت اسلامی نے کیا مطالبہ

جماعت اسلامی ہندکے ریاستی امیر حلقہ نے حکومت کی جانب سے سی اے اےکے خلاف پیش کٸےگٸےقراردادکا خیر مقدم کرتے ہوٸے این پی آرکے خلاف بھی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنےکی اپیل کی ہے۔

  • Share this:
مغربی بنگال میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف قرار داد منظور ہونے پر جماعت اسلامی نے کیا مطالبہ
مغربی بنگال کی ممتا بنرجی حکومت نے لداخ کی گلوان وادی میں چینی فوجیوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپ میں شہید ہوئے جوانوں کے اہل خانہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے امداد دینے اور خاندان کے ایک رکن کو سرکاری نوکری دینے کا بدھ کو اعلان کیا۔

کولکاتا: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مغربی بنگال حکومت نے اسمبلی میں قرارداد پیش کیا۔ اپوزیشن لیفٹ اورکانگریس کی حمایت  کے بعد قرارداد کو اسمبلی میں منظوری تو ملی تاہم مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے این پی آر پربھی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی بنال شاخ کی جانب سے این پی آرکے خلاف بھی قرارداد منظور کٸےجانےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔


جماعت اسلامی ہندکے ریاستی امیر حلقہ نے حکومت کی جانب سے سی اے اےکے خلاف پیش کٸےگٸےقراردادکا خیر مقدم کرتے ہوٸے این پی آرکے خلاف بھی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنےکی اپیل کی ہے۔ امیر حلقہ عبدالرفیق نےکہا کہ کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے ویب ساٸٹ پر این پی آرکے لٸے شہریوں نے تعاون کی اپیل کی گٸی تھی۔ بعد میں یہ اپیل ہٹالی گٸی، لیکن لوگوں کی بے چنی برقرار ہے اور نہ صرف سی اے اے بلکہ این پی آرکے تعلق سے بھی لوگوں میں خوف ہے اور حکومت کو اس تعلق سے اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔


ریاستی رکن عبدالعزیز نے این پی آر کے ذریعہ این ار سی کٸے جانے کے خدشےکا اظہار کرتے ہوٸےکہا کہ بنگال میں افسران کو این پی آر کی تربیت دی جارہی ہے، جو حیران کن ہے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ این پی آر پر اگر ممتا حکومت اپنا موقف واضح نہیں کرے گی تولوگوں میں بے چینی میں اضافہ ہوگا اور ترنمول کانگریس کے ساتھ بی جے پی کے خفیہ سیاسی تعلقات کا الزام مزید گہرا ہوگا۔

First published: Jan 27, 2020 08:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading