உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حضرت محمدﷺ کے سلسلے میں متنازعہ بیان دینے والوں کے خلاف قانون بنانے کا Khalid Anwar نے کیا مطالبہ

    بہار قانون ساز کونسل کے اجلاس میں جےڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے حکومت سے مذہبی پیشوا کے تعلق سے غلط  بیان بازی  کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔

    بہار قانون ساز کونسل کے اجلاس میں جےڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے حکومت سے مذہبی پیشوا کے تعلق سے غلط بیان بازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔

    بہار قانون ساز کونسل کے اجلاس میں جےڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے حکومت سے مذہبی پیشوا کے تعلق سے غلط بیان بازی کرنے والوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا۔

    • Share this:
    بہار قانون ساز کونسل میں جے ڈی یو کے ایم ایل سی خالد انور نے مذہبی پیشوا کے تعلق سے بات کرنے اور بیان دینے والوں کے خلاف سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ خالد انور نے ایوان کے اجلاس میں یہ مانگ کی۔ واضح رہے کہ بہار میں جے ڈی یو اور بی جے پی اتحاد کی حکومت ہے۔ جے ڈی یو ایم ایل سی نے کہا کی کچھ خاص ذہن کے لوگ مذہبی پیشوا کے سلسلے میں غلط بیان بازی کرنے میں ماہر ہیں۔ ایسے لوگ سماج میں تناؤ پیدا کرتے ہیں۔ خالد انور نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سماجی برائیوں کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے قانون بنایا ہے جس میں شراب بندی کا قانون بھی شامل ہے۔

    خالد انور (JDU MLC Khalid Anwar) نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس تعلق سے فوری طور پر پہل کی جائے۔ ایم ایل سی خالد انور کے مطابق مسلم پرسنل لا بورڈ، جمیعت علما، امارت شرعیہ بہار، ادارہ شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں نے پہلے ہی حضرت محمد ﷺ کے بارے میں متنازعہ بیان دینے والوں کے خلاف قانون بنانے کا مطالبہ کر چکی ہے۔ حکومت کو اس جانب غور کرنا چاہئے۔

    جے ڈی یو ایم ایل سی نے کہا کی کچھ خاص ذہن کے لوگ مذہبی پیشوا کے سلسلے میں غلط بیان بازی کرنے میں ماہر ہیں۔
    کچھ خاص ذہنیت کے لوگ ہیں جو سماج میں تناؤ پیدا کرتے ہیں، ان کیلئے سخت قانون بننا چاہئے۔: خالد انور


    خالد انور (Khalid Anwar) نے کہا کی جس طرح سے تریپورہ میں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں متنازعہ بات کی گئی اور اتر پردیش کے وسیم رضوی نام کے شخص لگاتار ایک خاص فرقہ کے جزبات کو مجروح کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ سماج کو زہر آلود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہار کے لوگ یوں تو سبھی مزاہب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن اس طرح کے بیان بازی کا اثر دوسرے صوبوں کے لوگوں پر بھی پڑتا ہے۔

    سماج میں بھائی چارہ قائم رہے اور کسی بھی مذہب کے مذہبی پیشوا کے خلاف کچھ کہنے سے لوگ باز آئے اسلئے ضروری ہیکہ حکومت ایک سخت قانون بنائے۔ خالد انور نے کہا کی تمام مزاہب کے پیشوا کا احترام کرنا بے حد ضروری ہے اور یہ بات لوگوں کو سمجھنا چاہئے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: