ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

جے ڈی یو کے مسلم MLC کی نظر وزارت کی کرسی پر، مسلم MLA نہیں ہونے سے ایم ایل سی کی کھل سکتی ہے قسمت

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بی جے پی نے پہلے ہی مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیا تھا، جےڈی یو نے گیارہ مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا بھی تو تمام مسلم امیدوار انتخاب ہار گئے۔ این ڈی اے بہار میں حکومت بنانے جارہی ہے۔ ایسے میں جےڈی یو کے مسلم ایم ایل سی کی نظر وزارت کی کرسی پر ٹکی ہے۔

  • Share this:
جے ڈی یو کے مسلم MLC کی نظر وزارت کی کرسی پر، مسلم MLA  نہیں ہونے سے ایم ایل سی کی کھل سکتی ہے قسمت
جےڈی یو کے مسلم ایم ایل سی کی نظر وزارت کی کرسی پر ٹکی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کے ایک بھی مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ بی جے پی نے پہلے ہی مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ جےڈی یو نے گیارہ مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا تو لیکن تمام مسلم امیدوار انتخاب ہار گئے۔ این ڈی اے بہار میں حکومت بنانے جارہی ہے۔ ایسے میں جےڈی یو کے مسلم ایم ایل سی کی نظر وزارت کی کرسی پر ٹکی ہے۔ این ڈی اے کی حکومت قائم ہونے پر اگر ایک بھی مسلم لیڈر کو وزیر بنایا جاتا ہے تو اسے اقلیتی فلاح کے محکمہ کو سنبھالنے کی ذمہ داری ملےگی اور یہ موقع ظاہر ہے کسی نہ کسی مسلم ایم ایل سی کو ملےگا۔


این ڈی اے اتحاد میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے جیت کر نہیں آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جےڈی یو کے مسلم ایم ایل سی کی نظر وزارت کی کرسی پر ٹکی ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کی وزیر بننے کا موقع کس کو ملتا ہے۔ جےڈی یو کے چھ مسلم ایم ایل سی ہیں۔ جانکاروں کے مطابق ایم ایل سی خالد انور، پروفیسر غلام غوث، مولانا غلام رسول بلیاوی اور قمر عالم میں سے کسی ایک کو وزیر بنایا جاسکتا ہے۔ ادھر مسلمانوں کا کافی کم ووٹ این ڈی اے کو ملا ہے۔ دلت مسلمانوں کا ایک طبقہ آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے قیادت میں این ڈی اے کو ضرور حمایت کیا ہے اور بہار میں بننے والی حکومت سے دلت مسلمانوں کے فلاح کے لئے کام کرنے کی امید رکھتا ہے لیکن موجودہ حکومت کے سامنے روزگار کو قائم کرنا اس بار ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اس لئے کی بہار کا پورا انتخاب کہی نہ کہی روزگار اور بے روزگاری کے مدعہ پر لڑا گیا ہے۔


مسلم لیڈر نتیش کمار کو بہار کے لئے سب سے بہتر وزیر اعلیٰ مانتیں ہیں اور نتیش کمار کو اقلیتوں کا مسیحا بتاتے نہیں تھکتے ہیں۔ سابق اقلیتی فلاح کے وزیر اور جے ڈی یو کے امیدوار خورشید عرف فیروز احمد کے انتخاب ہار جانے کے سبب پارٹی کے دوسرے مسلم لیڈر اقلیتی فلاح کے وزارت کی کرسی پر اپنے آپ کو کھڑا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ دانشوروں نے نتیش کمار سے اپیل کیا ہیکہ کم سے کم دو مسلم لیڈروں کو وزارت میں جگہ دی جائے۔ واضح رہیکہ گزشتہ مدت کار میں بھی نتیش کمار کی کابینہ میں صرف ایک مسلم لیڈر کو وزیر بنایا گیاتھا۔

Published by: sana Naeem
First published: Nov 15, 2020 06:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading