ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

شہریت ترمیمی بل کی حمایت سے جے ڈی یو میں گھمسان، دو بڑے لیڈروں نے حمایت پر اٹھائے سوال

پرشانت کشور نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت پرحملہ کرتے ہوئےکہاکہ”شہریت ترمیمی بل پرحمایت پارٹی قیادت کےاصول سے میل نہیںکھاتا ہے جوکہ مہاتما گاندھی کے اصولوں سے متاثر ہے۔ پون ورما نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 10, 2019 11:05 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شہریت ترمیمی بل کی حمایت سے جے ڈی یو میں گھمسان، دو بڑے لیڈروں نے حمایت پر اٹھائے سوال
شہریت ترمیمی بل پرکی حمایت سے جے ڈیو میں گھمسان

پٹنہ: بہار میں قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) کی حلیف جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے شہریت ترمیمی بل کو لوک سبھا میں حمایت دینے سے پارٹی کے قومی نائب صدرپرشانت کشوراورقومی جنرل سکریٹری پون ورما کی ناراضگی سے جےڈی یومیں گھمسان مچا ہوا ہے۔ جے ڈی یونےشہریت ترمیمی بل پر حمایت دینے کےمعاملے پردوری بنا رکھی تھی، لیکن اتوارکو پارٹی نےاس بل پرنریندرمودی حکومت کی حمایت کرنےکا فیصلہ لیا ۔ ا س کو لےکر جے ڈی یو کےقومی نائب صدرپرشانت کشورکے بعد اب قومی جنرل سکریٹری پون ورما نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے ۔

پرشانت کشورنےمائیکروبلاگنگ سائٹ ٹوئٹرپرپارٹی کے اس فیصلہ پر اپنی ناراضگی کا اظہارکیا ہےاورکہا کہ ”مذہب کی بنیاد پر شہریوں کے مابین تفریق کرنے والا شہریت ترمیمی بل کا پارٹی کےآئین سے میل نہیں کھاتا ہے جہاں پہلے ہی صفحہ پرسیکولرازم لفظ ، تین بار لکھا ہوا ہے ۔

جے ڈی یو کے قومی نائب صدرنےاشاروں ۔ اشاروں میں پارٹی کےاعلیٰ قیادت پرحملہ کرتے ہوئےکہا کہ ”شہریت ترمیمی بل پرحمایت پارٹی قیادت کےاصول سے میل نہیں کھاتا ہے جو کہ مہاتما گاندھی کے اصولوں سے متاثر ہے۔ اس کے بعد جے ڈی یو قومی جنرل سکریٹری ورما نے بھی پارٹی قیادت کے خلاف مورچہ کھولا اور ٹوئٹ کر کہاکہ ”میں نتیش کمارسے اپیل کرتاہوںکہ وہ راجیہ سبھا میں شہریت ترمیمی بل کو حمایت دینے پر دوبارہ غور کریں ۔

یہ بل غیر آئینی ، تفریق کرنے والا اور ملک کی اتحاد و سالمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف ہے ۔ ساتھ ہی جے ڈی یو کے سیکولرازم کیریکٹر کے بھی خلاف ہے ۔ آج گاندھی جی ہوتے تو اسے پوری طرح سے ٹھکرا دیتے ۔

وہیں لوک سبھا میں کل اس بل پربحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن پارلیمنٹ راجیو رنجن عرف للن سنگھ نے کہاتھاکہ جے ڈی یو بل کی حمایت اس لئے کر رہی ہے کیونکہ یہ سیکولرازم کے خلاف نہیں ہے۔ راجیو رنجن عرف للن سنگھ نےکہا تھا کہ اس بل کو لیکرشمال مشرق کی ریاستوں کےلوگوں کےکچھ اندیشے تھے، لیکن اب اسے بھی دور کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولوگ اتنے وقت سے انصاف کی امید لگائے ہوئے تھے انہیں یہ بل بڑی راحت دے گا۔

First published: Dec 10, 2019 11:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading