ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

جھارکھنڈ میں پانچ ماہ بعد کھلے سیلون اور بیوٹی پارلر، کورونا اور اقتصادی کمزوری کی وجہ سے چھائی مندی، کسٹمرس کی تعداد بیحد کم

جھارکھنڈ میں پانچ ماہ بعد سیلون اور بیوٹی پارلر کھولنے (Salon and beauty parlor open) کی اجازت تو ضرور دی گئی لیکن کورونا وبا کا خوف اور اقتصادی کمزوری کی وجہ سے ان مراکز پر کسٹمرس کی تعداد بیحد کم دیکھنے کو مل رہی ہے۔

  • Share this:
جھارکھنڈ میں پانچ ماہ بعد کھلے سیلون اور بیوٹی پارلر، کورونا اور اقتصادی کمزوری کی وجہ سے چھائی مندی، کسٹمرس کی تعداد بیحد کم
پانچ ماہ بعد کھلے سیلون اور بیوٹی پارلر،

جھارکھنڈ میں پانچ ماہ بعد سیلون اور بیوٹی پارلر کھولنے (Salon and beauty parlor open) کی اجازت تو ضرور دی گئی لیکن کورونا وبا کا خوف اور اقتصادی کمزوری کی وجہ سے  ان مراکز پر کسٹمرس کی تعداد بیحد کم  دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یکم ستمبر سے سیلون اور بیوٹی پارلر کھولے جا رہے ہیں لیکن ان مراکز پر مندی چھائی ہوئی ہے۔  کورونا وبا کے ماحول میں تمام ضروریات زندگی کو سخت مشکلات سے گزرنا پڑ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ پانچ ماہ سے زائد عرصہ کے بعد سیلون اور بیوٹی پارلر کھولنے کی اجازت ملی تو اس پیشے سے جڑے لوگوں کو راحت کے ساتھ انہیں اقتصادی حالت بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی۔ لکین کہتے ہیں کہ کورونا وبا کے ماحول میں روٹی کی ضرورت ہو یا خوبصورت دکھنے کی چاہت، اسے کورونا سے جنگ لڑنی پڑ رہی ہے۔

کورونا کی وجہ کر گزشتہ پانچ ماہ سے بیوٹی پارلر کے آئینہ پر خوبصورتی کے بجائے پڑے پردے ہٹنے کے بعد یہ امید تھی کہ ان آئینوں سے خوبصورتی کی سچائی نظر آئے گی لیکن کورونا وبا کا خوف اور اقتصادی کمزوری نے ان امیدوں پر ابھی بھی پردہ ڈال رکھا ہے۔


دور حاضر میں حسن اور خوبصورتی کا پرفکشن سرٹیفکیٹ بیوٹی پارلر کے آئینہ کے ذریعہ ہی جاری ہوتا ہے لکین ان سرٹیفکیٹ کی چاہت رکھنے والی خواتین کی خواہش کورونا وبا کی وجہ سے معدوم پڑ گئی ہے۔ بیوٹی پارلر کھلنے کے بعد کم تعداد میں پارلر آنے والی خواتین میں سے ایک رقیہ پروین کا کہنا ہے کہ وہ تمام تر احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے وہ آئی برو اور ہیئر کٹنگ جیسے ہلکے پھلکے کاموں کے لئے پارلر آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بیوٹی پارلر بند رہے وہ گھروں میں ہی خوبصورتی کے سوشل سائٹس پر دیکھ کر اپنی خوبصورتی کو بنائے رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔



وہیں بیوٹی پارلر چلا کر اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کرنے والی خاتون خوشبو خان کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ بعد کھلے بیوٹی پارلر سے راحت ضرور ملی لکین کورونا وبا کے خوف اور اقتصادی کمزوری کی وجہ کر بیحد قلیل تعداد میں گاہک پارلر پہنچ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے خطرات اور حکومت کے احکامات کے پیش نظر بیوٹی پارلر میں تمام تر احتیاطی تدابیر اپنائے جا رہے ہیں۔



خوشبو خان نے واضح کیا کہ لاک ڈائون کی وجہ کر پانچ ماہ سے زائد وقت تک بیوٹی پارلر بند رہنے سے تمام جمع پونجی خرچ ہو گئے اور اقتصادی تنگی کے دور سے گذرنا پڑا لیکن بیوٹی پارلر کھولنے کی اجازت ملنے سے انہیں راحت ملی ہے۔ انہوں نے جلد ہی کورونا کے خاتمے اور گاہکوں کی تعداد میں اضافہ سے آمدنی میں اضافے کی امید کا اظہار کیا ہے ساتھ ہی خوشبو خان نے ریاست کی ہیمنت سورین حکومت کی اس پہل کا شکریہ بھی ادا کیا۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 03, 2020 08:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading