ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

راجدیو رنجن قتل کیس : پولیس نے حراست میں لیا شہاب الدین کا شارپ شوٹر

سیوان : سیوان میں صحافی راجدیو رنجن قتل کیس میں پولیس آر جے ڈی کے سابق لیڈر اور جیل میں بند دبنگ محمد شهاب لدين کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: May 15, 2016 06:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
راجدیو رنجن قتل کیس : پولیس نے حراست میں لیا شہاب الدین کا شارپ شوٹر
سیوان : سیوان میں صحافی راجدیو رنجن قتل کیس میں پولیس آر جے ڈی کے سابق لیڈر اور جیل میں بند دبنگ محمد شهاب لدين کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔

سیوان: ہندوستان اخبار کے صحافی راجدیو رنجن کے قتل کیس میں پولیس نے شہاب الدین کے شارپ شوٹر منشی میاں کو حراست لے لیا ہے۔ پولیس ہیڈ کوارٹر کے مطابق ضلع کے سینئر پولیس افسران جائے واقعہ پر پہنچ کر معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے پولیس اس معاملے میں 4 مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کر چکی ہے۔

سیوان میں صحافی راجدیو رنجن قتل کیس میں پولیس آر جے ڈی کے سابق لیڈر اور جیل میں بند دبنگ محمد شهاب لدين کے کردار کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ اس معاملے میں پولیس شہاب الدین کے قریبی سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس معاملے میں سیوان سے سابق ایم پی کے دو قریبی لوگوں کو حراست میں لیا ہے ، جبکہ شہاب الدین کا نام ایف آئی آر میں نہیں ہے۔ سیوان کے ایس پی سوربھ کمار نے کہا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند قتل ہے جسے پروفیشنل گینگ نے انجام دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ، جو یہ ثابت کر سکے کہ راجدیو رنجن کی کسی سے دشمنی تھی۔

لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اس اینگل سے بھی جانچ کر رہی ہے کہ محمد شهاب الدين سے متعلق رپورٹنگ کرنے کی وجہ سے تو اس قتل کو انجام نہیں دیا گیا ۔ خیال رہے کہ راجدیو رنجن نے ہی سیوان جیل میں بہار کے وزیر عبد الغفار اور شہاب الدین کی ملاقات سے متعلق تصویر منظر عام پر لائی تھی ۔

ایس پی سوربھ کمار کے مطابق سات افراد نے مل کر جمعہ کو صحافی کے قتل کی واردات کو انجام دیا تھا۔ دو لوگ موٹر سائیکل پر راجدیو کا پھل منڈی پر پہلے سے انتظار کر رہے تھے۔اتنا ہی نہیں قتل کرنے والے لوگوں نے قریب سے جا کر راجدیو پر پانچ گولیاں چلائیں، تاکہ وہ بچ نہ سکیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق جب ایس پی سے اس معاملے میں شہاب الدین کے شامل ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ابھی اس معاملہ کی جانچ چل رہی ہے اور دو افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک شخص کا نام اوپیندر سنگھ ہے ، جو شہاب الدین کے لئے کام کرتا ہے۔ اس کا نام گزشتہ سال سیوان سے بی جے پی کے ایم پی اوم پرکاش کے پریس سکریٹری سنسکرتی بھارتی کے قتل میں بھی آیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رنجن کو ایک فون کال کے ذریعے پھنسایا گیا تھا۔ اب پولیس رنجن کے فون کالز ریکارڈ بھی کھنگال رہی ہے، کیونکہ فون آنے کے بعد ہی رنجن دفتر سے پھل منڈی کے لئے نکلے تھے۔
پولیس کو امید ہے کہ ارد گرد نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے بھی اسے اس قتل کے کچھ ثبوت مل سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 11 مئی کے بعد کسی کے پاس بھی پرائیویٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ نہیں ہے۔ وہ اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ کیا ایسا کسی تکنیکی وجہ سے ہوا ہے یا پھر جان بوجھ كر ڈاٹا ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں سے وابستہ ہارڈ ڈسک کو فارنسک لیب میں بھیجا ہے، جہاں ڈیلیٹ کئے گئے ڈاٹا کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایک سینئر صحافی نے بتایا کہ 22 سالہ صحافتی کیریئرکے دوران رنجن نے تمام اہم کوریج کی ہیں ۔ اتنا ہی نہیں جب بھی وہ لوٹتے تھے تو ان کی کہانی شہاب الدین اور اس کے ساتھیوں پر ہی ہوتی تھی۔ سال 2005 میں بھی رنجن پر سیوان دفتر کے باہر جان لیوا حملہ ہوا تھا، لیکن اس وقت کوئی ایف آئی آر تک نہیں لکھی گئی۔
First published: May 15, 2016 01:08 PM IST