ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

 گزشتہ 9 سال سے مجرموں کے رڈار پر تھے راجدیو رنجن

سیوان : صحافی راجدو رنجن کے قتل کو لے کئی اہم معلومات سامنے آئی ہیں ۔ سیوان میں گزشتہ 24 سالوں سے صحافت کر رہے راجدیو دراصل 9 سالوں سے مجرموں کے نشانے پر تھے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: May 14, 2016 08:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
 گزشتہ 9 سال سے مجرموں کے رڈار پر تھے راجدیو رنجن
سیوان : صحافی راجدو رنجن کے قتل کو لے کئی اہم معلومات سامنے آئی ہیں ۔ سیوان میں گزشتہ 24 سالوں سے صحافت کر رہے راجدیو دراصل 9 سالوں سے مجرموں کے نشانے پر تھے۔

سیوان : صحافی راجدو رنجن کے قتل کو لے کئی اہم معلومات سامنے آئی ہیں ۔ سیوان میں گزشتہ 24 سالوں سے صحافت کر رہے راجدیو دراصل 9 سالوں سے مجرموں کے نشانے پر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مرتبہ ان کے دفتر پر بھی مجرموں نے حملہ بولا تھا۔ سیوان میں دینک ہندوستان کے بیورو چیف راجدیو رنجن پر 2005 میں بھی حملہ ہوا تھا۔

راجدیو رنجن کے ساتھی درگاكانت اس وقت ان کے ساتھ تھے۔ اکتوبر 2005 میں تقریبا رات آٹھ بجے کچھ لوگوں نے آفس کے باہر سے راجدیو کو آواز دی اور پھر اس کے ساتھ بری طرح سے مارا پیٹ کی تھی ، لیکن اس وقت راجدیو کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا۔ اس کے بعد بھی راجدیو نے بے خوف صحافت کو زندہ رکھا۔

ای ٹی وی / پردیش 18 کو جو اہم معلومات ملی ہیں ، اس کے مطابق 2007 میں ہی پولیس کی اسپیشل برانچ نے ضلع میں 24 افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا ان پٹ پولیس کو دیا تھا۔ اس کی معلومات ضلع کے پولیس کپتان کو بھی دی گئی تھی۔ مجرموں کی اس هٹ لسٹ میں راجدیو کا بھی نام شامل تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت سیوان جیل سے ہی 24 لوگوں کے نام ڈیتھ وارنٹ جاری کئے گئے تھے ۔ راجدیو کے ساتھ کام کرنے والے لوگ بھی بتاتے ہیں کہ بے خوف رپورٹنگ کی وجہ سے راجدیو کو کئی مرتبہ سیوان جیل سے دھمکی بھی مل چکی تھی۔

خیال رہے کہ راجدیو کے قتل سے پہلے بھی سیوان قتل کے واقعات کو لے کر سرخیوں میں رہ چکا ہے۔ وہاں کی جیل کو ضلع سمیت ارد گرد کے علاقے میں ہونے والے جرائم کا وار روم سمجھا جاتا ہے۔ جہاں آر جے ڈی کے گڑھ کے طور پر اس علاقے کی شناخت رہی ہے تو وہیں جیل میں بند شہاب الدین کی بھی طوطی کی خبریں اور قصے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ 1997 میں چندر شیکھر قتل کی وجہ سے سرخیوں میں آیا سیوان تاجر برادران پر تیزاب حملے اور ایم پی امیدوار کے قتل جیسے کئی واقعات کا گواہ رہ چکا ہے۔ تازہ صورت میں ایک صحافی پر حملہ نے سیوان کا جرم سے کنکشن کو بخوبی اجاگر کردیا ہے۔

First published: May 14, 2016 08:48 PM IST