உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی لیڈر نے نوٹ بندی پر اٹھائے سوال، کہا جیٹلی کی نااہلی کی وجہ سے ہو رہی حکومت کی رسوائی

    کیرتی نے الزام لگایا کہ اگر حکومت کی منشا واضح رہتی تو نوٹ بندی کی تیاری پہلے سے کر لی گئی ہوتی۔

    کیرتی نے الزام لگایا کہ اگر حکومت کی منشا واضح رہتی تو نوٹ بندی کی تیاری پہلے سے کر لی گئی ہوتی۔

    کیرتی نے الزام لگایا کہ اگر حکومت کی منشا واضح رہتی تو نوٹ بندی کی تیاری پہلے سے کر لی گئی ہوتی۔

    • News18.com
    • Last Updated :
    • Share this:
      دربھنگہ۔ سابق ہندوستانی کرکٹر اور ایم پی کیرتی جھا آزاد نے نوٹ بندی کو لے کر وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر حملہ کرتے ہوئے اتوار کو الزام لگایا کہ ان کی نااہلی کی وجہ سے مرکزی حکومت کی رسوائی ہو رہی ہے، ایسے میں انہیں استعفی دے دینا چاہئے۔ کیرتی نے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم کوئی فیصلہ لے رہے ہیں اور بینکوں میں کروڑوں لوگوں کا کالا دھن سفید کیا جا رہا ہے۔ یہ بینک کس کے تحت ہیں؟ یہ وزارت خزانہ کے تحت ہیں۔ وزیر خزانہ غیر فعال ہیں اور ماہر اقتصادیات بھی نہیں ہیں۔ انہیں استعفی دے دینا چاہئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نوٹ بندی سے ملک میں بد اعتمادی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ نوٹ بندی الٹا آفت پیدا کر گئی ہے۔ کالے دھن والے حکومت سے بہت زیادہ شاطر اور پہنچ والے ہیں۔

      کیرتی نے الزام لگایا کہ اگر حکومت کی منشا واضح رہتی تو نوٹ بندی کی تیاری پہلے سے کر لی گئی ہوتی۔ ان کے پالیسی سازوں کو عملیت کا علم نہیں ہے۔ عام لوگوں کو 500 اور 1000 کے بجائے 2000 روپے کے نئے نوٹ چھاپے جانے کا جواز سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ اس پورے عمل سے کارپوریٹ گھرانے کو فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ انہوں نے سوالیہ لہجے میں کہا کہ آٹھ نومبر کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں چھاپہ ماری شروع کی گئی اور جہاں-تہاں کالا دھن پکڑ میں آ رہا ہے۔ یہی کام پہلے وسیع پیمانے پر نہ ہونا وزارت خزانہ کی نااہلی کا مظہر ہے۔

      کیرتی جھا آزاد نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر حملہ کرتے ہوئے نوٹ بندی کے بعد پیدا حالات کے لئے انہیں ہی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس دوران ریزرو بینک نے 59 بار نوٹ بندی سے متعلق احکامات جاری کئے۔ وزیر خزانہ اور ریزرو بینک کے درمیان تال میل کا سخت فقدان ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چھوٹی صنعتیں اس نوٹ بندی سے بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ بڑی تعداد میں مزدوروں کو کام نہ ہونے کی وجہ سے اپنے گھر لوٹنا پڑ رہا ہے۔
      First published: