உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پڑھئے : کون ہیں کسان چاچی اور کیوں ہے ان کی ہر طرف چرچا

    یہ گزرے زمانے کی بات ہے ، جب تلسی داس نے رام چرتر مانس میں کہا تھا کہ ڈھول ،گنوار،شدر،پشو ،ناری ، سکل تاڑنا کے ادھیکاری ، تلسی داس کی ناری مگر اب علامہ اقبال کی وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ اور اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزودروں والی طاقتورخاتون بن چکی ہے جس کی مثال بہار کے ضلع مظفر پور کی درجنوں خواتین زراعت کے لئے کھیتوں میں اُتر کر نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہیں۔ بلکہ ان کا مستقبل سنوارنے کی خاطر مردوں کی طرح محنت بھی کررہی ہیںاور ان خواتین کی مشعلِ راہ ان کے دلوں کی دھڑکن محترمہ راج کماری دیوی ہیں۔

    یہ گزرے زمانے کی بات ہے ، جب تلسی داس نے رام چرتر مانس میں کہا تھا کہ ڈھول ،گنوار،شدر،پشو ،ناری ، سکل تاڑنا کے ادھیکاری ، تلسی داس کی ناری مگر اب علامہ اقبال کی وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ اور اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزودروں والی طاقتورخاتون بن چکی ہے جس کی مثال بہار کے ضلع مظفر پور کی درجنوں خواتین زراعت کے لئے کھیتوں میں اُتر کر نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہیں۔ بلکہ ان کا مستقبل سنوارنے کی خاطر مردوں کی طرح محنت بھی کررہی ہیںاور ان خواتین کی مشعلِ راہ ان کے دلوں کی دھڑکن محترمہ راج کماری دیوی ہیں۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      یہ گزرے زمانے کی بات ہے ، جب تلسی داس نے رام چرتر مانس میں کہا تھا کہ ڈھول ،گنوار،شدر،پشو ،ناری ، سکل تاڑنا کے ادھیکاری ، تلسی داس کی ناری مگر اب علامہ اقبال کی وجود زن سے ہے تصور کائنات میں رنگ اور اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزودروں  والی طاقتورخاتون بن چکی ہے جس کی مثال بہار کے ضلع مظفر پور کی درجنوں خواتین زراعت کے لئے کھیتوں میں اُتر کر نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کررہی ہیں۔ بلکہ ان کا مستقبل سنوارنے کی خاطر مردوں کی طرح محنت بھی کررہی ہیںاور ان خواتین کی مشعلِ راہ ان کے دلوں کی دھڑکن محترمہ راج کماری دیوی ہیں۔


      آج سے تقریباً ایک دہائی قبل جب راج کماری اپنی ساڑی کے پلوں کو سنبھالتے ہوئے سائیکل پر سوار ہوکر بازار کا رخ کرتی تھی، تو لوگ اپنی انگلیوں کو دانتوں تلے دبا لیتے تھے۔مگر ان سے سبق حاصل کرتے ہوئے کئی خواتین نے اپنی طرز ِ زندگی کو بہتر کیا ہے ، انھیں میں سے ایک سریا بلاک کے پیپرا گائوں کی گیتا دیوی بھی ہیں ،گھر کی چہار دیواری سے باہر قدم نکالنے کو عیب سمجھنے والی گیتا دیوی اب ایک بہترین کسان کی شناخت بناچکی ہیں۔


      راجکماری دیوی عر ف کسان چاچی سے متاثر ہوکر انھوںنے زراعت کی شروعات کی اور اب وہ نہ صرف اقتصادی طور پر خود اعتماد ہیںبلکہ نیبوکی کھیتی کے لئے علاقہ بھر میں مشہور ہیں۔ اسی کھیتی سے انھوں نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم یافتہ بھی بنایا ہے۔ سریا بلاک میں ایسی کئی خواتین ہیں جنھوں نے کسان چاچی سے متاثر ہوکر ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فیضیاب ہوئی ہیں، کل تک جن کو کھانے کے لالے پڑگئے تھے آج وہ خواتین دوسروں کی مالی مدد کررہی ہیں۔


      kisan chachi..1


      راجکماری دیوی کی پیدائش ایک ماسٹر کے گھر میں ہوئی تھی، انھوں نے ابھی دسویں جماعت ہی پاس کیا تھا کہ رسم ورواج کے مطابق 1974میں ان کی شادی ایک کسان خاندان میں اودھیش کمار چودھری سے کردی گئی۔سال 1990 میں چودھری کے چاربھائیوں کا بٹوارہ ہوا،جس میں ان کے حصہ میں صرف ڈھائی بیگہا زمین آئی ۔


      خاندان میں پہلے تمباکو کی کھیتی ہوتی تھی،تمباکو کے نقصان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے راجکماری نے گھر کے پیچھلے حصہ میں پھلوں اور سبزیوں کی کھیتی شروع کی ۔ساتھ ہی پھلوں اور سبزیوں سے اچار ،مربا وغیرہ بھی بنانے لگی،اس کام میں پاس پڑوس کی دیگر خواتین نے بھی اپنی دلچسپی دکھائی۔کام اور محنت بڑھی تو آمدنی بھی بڑھنے لگی،اس درس کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے راجکماری سائیکل سے گھوم گھوم کر دوسرے گائوں کی خواتین کو بھی یہ ہنر سیکھانے لگی،دیگر خواتین نے بھی خوب فائدہ حاصل کیا اور اپنی شناخت محنتی کسان کی شکل میں درج کرانے لگیں، اس کے چرچے ریاست و بیرون ریاست ہونے لگے۔


      وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی ان کی باغبانی اور زراعت دیکھنے ان کے گھر گئے۔کئی میلے اور تقریبات میں انھیں انعامات سے سرفراز کیا جا چکا ہے، ریاست حکومت نے انھیں کسان شری انعام دیا ہے، تب سے کسان چاچی کے نام سے مشہور ہوئیں ۔ستمبر 2013میں احمد آباد کے ایک میلہ میں وہ پہنچی تو گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم نے بھی ان سے ملاقات کر کے ان کی تعریف کی۔


      راجکماری دیوی کے شوہر کہتے ہیں کہ پہلے پہل مجھے اس کا یہ کام اچھا نہیں لگا، کیونکہ معاشرہ اس کو رسم ورواج سے ہٹ کر دیکھ رہا تھا،لیکن میں اپنی بیوی کے کام سے اتنا متاثر ہو اکہ اب مجھے اس پر فخر ہوتا ہے اب میری دلی خواہش ہے کہ ایسی خواتین ہر گھر میں ہونی چاہئے ، اس کی وجہ سے آج میرے پورے خاندان کی عزت کے ساتھ آمدنی بھی ہورہی ہے، اس پر کئی فلم بن چکی ہے۔


      راجکماری دیوی 22-23طرح کے اچار اور مربے بناتی ہیں ۔ اس کے بنائے ہوئے یہ سامان دہلی اور ممبئی جیسے مہانگروں کی دکانوں میں نہ صرف فروخت ہورہے ہیں بلکہ بہار کا نام بھی روشن کررہے ہیں۔ کم پونجی سے شروع ہونے والا یہ کام دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔


      یہی وجہ ہے کہ کسان چاچی اب گائوں سے نکل کر مظفر پور شہر میں باضابطہ اپنی اس صنعت کو فروغ دینے کے لئے زمین بھی خرید چکی ہیں،اپنی دونوں بیٹیوں سپریا اور سونالی کو انھوں نے ایم سی اے کروادیا ہے، "سورن جینتی گرام سو رزگار یوجنا کے تحت خواتین کے 36 سلف ہیپ گروپ بناکر ایک نئے باب کا آغاز کررہی ہیں ۔


      (چرخہ فیچرس)

      First published: