ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کولکاتہ کے حیدر منزل کو کیوں مانا جاتا ہے خاص: جانیں یہاں

جب 1947 میں ملک آزادی کے جشن کی تیاریاں میں ڈوبا تھا مغربی بنگال کے نواح خالی علاقہ جو اب بنگلہ دیش کا حصہ ہے یہاں فساد پھوٹ پڑا تھا اور گاندھی جی نے امن کی اپیل کے لئے کلکتہ شہر (جو اب کولکاتا کے نام سے جانا جاتا ہے) کا دورہ کیا اور شہر کے بیلیا گھاٹا علاقے میں نواب حیدر علی کے مکان حیدر منزل میں جا کر بیٹھ گئے اور کسی بھی لیڈر سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے امن و اتحاد کی اپیل کی۔

  • Share this:
کولکاتہ کے حیدر منزل کو کیوں مانا جاتا ہے خاص: جانیں یہاں
حیدر منزل

موہن داس کرم چند گاندھی جنہیں دنیا "مہاتما" کے نام سے جانا جاتا ہے مہاتما گاندھی نے ملک کو برطانوی تسلط سے آزادی دلائی اور آج ہم آزاد ملک میں سانس لیتے ہیں۔ گاندھی جی کی عدم تشدد کے پیغام کو پوری دنیا میں احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے یہ وہ پیغام ہے جس نے گاندھی جی کو دنیا بھر میں مقبولیت دلائی۔ گاندھی جی نے صرف عدم تشدد کا ہی پیغام نہیں دیا بلکہ انہوں نے ملک میں محبت اور رواداری کے چراغ کو روشن رکھنے کے لئے بھی لمبی جدوجہد کی اور اسی جدوجہد کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔


گاندھی جی نے ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ دیا تھا وہ ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار رہے۔ گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ملک میں امن کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں رہنے والے تمام لوگ ایک دوسرے کے عقیدے کا احترام نہ کریں۔  یہی وجہ ہے کہ جب 1947 میں ملک آزادی کے جشن کی تیاریاں میں ڈوبا تھا مغربی بنگال کے نواح خالی علاقہ جو اب بنگلہ دیش کا حصہ ہے یہاں فساد پھوٹ پڑا تھا اور گاندھی جی نے امن کی اپیل کے لئے کلکتہ شہر (جو اب کولکاتا کے نام سے جانا جاتا ہے) کا دورہ کیا اور شہر کے بیلیا گھاٹا علاقے میں نواب حیدر علی کے مکان حیدر منزل میں جا کر بیٹھ گئے اور  کسی بھی لیڈر سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے امن و اتحاد کی اپیل کی۔


کہا جاتا ہے کہ بابائے قوم اس مکان میں ہفتوں بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے جب تک کے متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی ممکن نہ ہوسکی۔ گاندھی جی نے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ آج یہ حیدری منزل گاندھی بھون کے نام سے جانی جاتی ہے۔ تقسیم کے بعد نواب حیدر علی بھی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے یہ مکان ہندو مسلم اتحاد کی مثال مانی جاتی ہے جہاں بیٹھ کر گاندھی جی نے امن کا نعرہ دیا تھا۔ اس مکان میں گاندھی جی کی یادوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ گاندھی جینتی کے موقع پر یہاں ہزاروں لوگ آتے ہیں بابائے قوم کی یادگاروں کو دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نواب حیدر علی کے اس مکان کو بھی جو ایسی اتحاد و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال مانی جاتی ہے۔

Published by: sana Naeem
First published: Oct 03, 2020 02:35 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading