உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کولکاتہ: کورونا مریض کی موت کے بعد بھی گھر والوں کو اس کے ٹھیک ہونے کا دلایا جا رہا تھا بھروسہ

    کولکاتا کے توپسیا علاقے کے 48 سالہ تاج الدین کو کولکاتا کے سرکاری ایم ار بانگور اسپتال میں یکم مئی کو داخل کرایا گیا تھا۔

    کولکاتا کے توپسیا علاقے کے 48 سالہ تاج الدین کو کولکاتا کے سرکاری ایم ار بانگور اسپتال میں یکم مئی کو داخل کرایا گیا تھا۔

    کورونا سے متاثر مریض کو اسپتال میں داخل کرانے کے بعد گھر والوں کو ہفتوں تک بتایا جاتا رہا کہ ان کا مریض روبہ صحت ہے

    • Share this:
    کولکاتہ۔ کورونا کی جنگ مں جہاں ڈاکٹروں کی کارکردگی کو دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔ وہیں کورونا متاثرہ مریضوں کے ساتھ کھڑے ڈاکٹرس اپنے گھر و فیملی سے دور اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں جہاں کورونا کے بڑھتے مریضوں کی تعداد باعث تشویش ہے وہیں ایک بڑی تعداد کورونا مریضوں کی ایسی بھی یے جو صحتیاب ہوئی ہے لیکن ان سب کے باوجود اسپتال انتظامیہ کی غفلت بھی دیھکنے کو مل رہی یے۔

    کولکاتا میں بھی ایک ایسا ہی دل دہلا دینے والی بے توجہی سامنے آئی ہے۔ کورونا سے متاثر مریض کو اسپتال میں داخل کرانے کے بعد گھر والوں کو ہفتوں تک بتایا جاتا رہا کہ ان کا مریض روبہ صحت ہے لیکن جب ہفتوں تک اپنے مریض کو دیکھنے میں ناکام گھر والوں نے ضد کی کہ انہیں اپنے مریض کو دیکھنا ہے تو پتہ چلا کہ ان کے مریض کی کئی دن پہلے ہی موت ہوچکی ہے۔ اس پر  ستم یہ کہ لاش کی اخری رسوم بھی ادا کردی گٸی۔ جن کے بارے میں گھر والے اچھی خبر سننے کی دعائیں مانگ رہے تھے، پر امید تھے  وہ تو  کب کا ہی ابدی نیند سو چکا تھا۔



    کولکاتا کے توپسیا علاقے کے 48 سالہ تاج الدین کو کولکاتا کے سرکاری ایم ار بانگور اسپتال میں یکم مئی کو داخل کرایا گیا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے پہلے کوویڈ نگیٹیو  کی خبر دی گٸی۔ بعد میں  4مٸی کو بتایا گیا کہ ان کا کورونا ٹسٹ پوزیٹیو آیا ہے اور انہیں اسپتال کے علیحدہ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔  ڈبلیو ایچ او کی گائڈ لاٸن کے تحت گھر والے بھی ہوم کورینٹاٸن ہوگٸے تاہم گھر والےتاج الدین کی حالت پوچھنے کے لٸے لگاتار فون کرتے رہے اور انہیں بتایا جاتا رہا کہ ان کےمریض کی صحت ٹھیک ہو رہی ہے۔ 7 مئی کو مہلوک کے گھر والے بضد ہوٸے کہ انہیں اپنے مریض کو دیکھنا ہے تو ویڈیو کال سے بات کرانے کا بندوست کیا گیا لیکن ویڈیو کال میں جو مریض نظر ایا وہ تاج الدین نہیں تھے۔ جب گھر والوں نے کہا  کہ یہ تاج الدین نہیں ہے تو پھر انہیں  مزید دو دنوں کے انتظار کے بعد بتایا گیا کہ ان کے مریض کی موت 5 مئی کو ہی ہو گٸی تھی۔ جب لاش مانگی گئی تو پتہ چلا کہ اخری رسوم بھی ادا کردی گئی ہے۔ پریشان گھر والے اب اس معاملہ کی جانچ کی مانگ کر رہے ہیں۔

     
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: