ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

عبادت گاہیں کھولے جانے کے ممتا سرکار کے اعلان کے باوجود کولکاتہ کی تاریخی ٹیپو سلطان مسجد فی الحال رہے گی بند ، جانئے کیوں

مسجد کمیٹی کے رکن سمیع مبارکی نے کہا کہ مسجد کھولے جانے کے اعلان سے لوگوں کی بھیڑ مسجد کے باہر جمع ہوگی ، ایسے میں صرف دس لوگوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت سے لوگوں میں ناراضگی پھیلے گی ، جس کو سنبھالنا انتظامیہ کےلٸے مشکل ہوگا ۔

  • Share this:
عبادت گاہیں کھولے جانے کے ممتا سرکار  کے اعلان کے باوجود کولکاتہ کی تاریخی ٹیپو سلطان مسجد فی الحال رہے گی بند ، جانئے کیوں
عبادت گاہیں کھولے جانے کے ممتا سرکار کے اعلان کے باوجود کولکاتہ کی تاریخی ٹیپو سلطان مسجد فی الحال رہے گی بند ، جانئے کیوں

کولکاتہ میں مسجد ، مندر، چرچ و گرودوارہ سمیت تمام مذہبی عبادت گاہیں کھولے جانے کے حکومت کے اعلان کے بعد جہاں شہر کی بیشتر مساجد عوام کے لٸے کھول دی گٸیں ، وہیں شہر کی تاریخی ٹیپو سلطان مسجد پر تالا ہی لگا رہا ۔ عبادت گاہیں کھولنے کے اعلان کے ساتھ وزیر اعلی نے کہا تھا کہ صرف ایک ساتھ دس لوگ ہی داخل ہو سکیں گے ، ایسے میں ٹیپو سلطان مسجد انتظامیہ کمیٹی نے اس شرط سے عوامی ناراضگی بڑھنے اور مسجد میں لوگوں کو داخل ہونے سے روکنے میں انتظامیہ کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوٸے فی الحال مسجد کے دروازے پر لگے تالے کو کھولنے سے انکار کردیا ہے ۔


وہیں دوسری طرف ناخدا مسجد کمیٹی نے تالا کھولتے ہوٸے لوگوں کو نماز کی دعوت دی ۔ لیکن صرف دس لوگوں کو داخل ہونے سے لوگوں میں ناراضگی دیکھنے کو ملی ۔ حال یہ تھا کہ جن مصلییوں کو ظہر میں اندر جانے کی اجازت نہیں ملی ، انہوں نے عصر تک انتظار کیا ۔ جبکہ ٹیپو سلطان مسجد کمیٹی نے فی الحال تالا نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔


ٹیپو سلطان مسجد کمیٹی نے فی الحال تالا نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
ٹیپو سلطان مسجد کمیٹی نے فی الحال تالا نہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ۔


مسجد کمیٹی کے رکن سمیع مبارکی نے کہا کہ مسجد کھولے جانے کے اعلان سے لوگوں کی بھیڑ مسجد کے باہر جمع ہوگی ، ایسے میں صرف دس لوگوں کو مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت سے لوگوں میں ناراضگی پھیلے گی ، جس کو سنبھالنا انتظامیہ کےلٸے مشکل ہوگا ۔

انہوں نے عبادت گاہیں کھونے کے تعلق سے حکومت کے فیصلہ کو غیر منصوبہ بند بتاتے ہوٸے کہا کہ اس تعلق سے اعلان سے قبل حکومت کے اعلی عہدیداروں کو مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کی انتظامیہ کمیٹی سے میٹنگ کرنی چاہٸے تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ چرچ و مساجد میں لوگ اجتماعی طور پر عبادت کرتے ہیں ۔ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی جاتی ہے ، جبکہ چرچ میں بھی اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ ایسے میں صرف دس لوگوں کی نماز کی اجازت کی پابندی کے ساتھ مسجد کھولنے سے انتظامیہ کی مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ انہوں نے 8 جون کے بعد اس تعلق سے حکومت کا اہم فیصلہ آنے کی امید ظاہر کی ۔
First published: Jun 02, 2020 12:59 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading