ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کولکاتہ کا یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل حکومت کی عدم توجہی کا شکار

یونانی میڈیکل کالج مغربی بنگال کا واحد یونانی میڈیکل کالج ہے ۔ اقتدار میں آنے سے قبل ترنمول کانگریس نے یونانی میڈیسن کو فروغ دینے کا وعدہ کیا تھا ، مگر دس سال کی مدت مکمل ہونے کے باوجود یونانی پیتھی انصاف ملنے اور ترقی کی راہ تک رہی ہے ۔

  • Share this:
کولکاتہ کا یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل حکومت کی عدم توجہی کا شکار
کولکاتہ کا یونانی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل حکومت کی عدم توجہی کا شکار

ملک میں جاری کورونا بحران کے دوران کولکاتہ کے مختلف اسپتالوں میں دیگر ڈاکٹروں کے ساتھ یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے طلبہ و اساتذہ بھی ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ، جن کی خدمات کو سراہا بھی جارہا ہے ۔ لیکن جس کالج سے یہ میڈیکل کی ڈگری لے کر ڈیوٹی کر رہے ہیں ، وہ کالج زبوں حالی کا شکار ہے ۔ کولکاتہ یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے فائنل ایئر کے طلبہ سرکاری اسپتالوں میں انٹرن شپ کرتے ہیں ۔ کورونا بحران میں ان طلبہ کی خدمات اہم رہی ہیں ۔ لیکن شہر کا یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال خستہ حالی کا شکار ہے ۔


ریاستی حکومت نے بھی یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے فنڈ میں کٹوٹی کردی ہے ۔ جس کی وجہ سے کالج چلانا مشکل ہو رہا ہے ۔ کالج انتظامیہ اساتذہ اور دیگر ملازمین کی تنخواہ دینے میں ناکام ہے ۔ یونانی کالج کے طلبہ اور اساتذہ حکومت سے کالج کو سرکاری تحویل میں لینے اور شہر کے اس واحد یونانی کالج کی ترقی کا مطالبہ کررہے ہیں ، لیکن حکومت توجہ دینے میں ناکام ہے ۔ حال یہ ہے کہ یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال بند ہونے کی کگار پر ہے اور انتظامیہ خاموش ہے ۔ سنٹرل کونسل فار انڈین میڈیسن اور وزارت آیوش کے سخت قوانین و ضوابط کے ساتھ یونانی کالج انتظامیہ کیلئے پرائیوٹ سطح پر کالج چلانا مشکل ہورہا ہے۔


ریاستی حکومت نے بھی یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے فنڈ میں کٹوٹی کردی ہے ۔ جس کی وجہ سے کالج چلانا مشکل ہو رہا ہے ۔
ریاستی حکومت نے بھی یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے فنڈ میں کٹوٹی کردی ہے ۔ جس کی وجہ سے کالج چلانا مشکل ہو رہا ہے ۔


کولکاتہ میں یونانی میڈیکل کالج کو 1994 میں قائم کیا گیا تھا ۔ 2008 میں کالج کی منیجنگ کمیٹی نے کالج کو ریاستی حکومت کے تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا ۔ 2009 میں ہیلتھ و فیملی ویلفیئر کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس بل کو منظوری دی اور اس کے بعد 2010 میں سابقہ لیفٹ حکومت نے یونانی میڈیکل کالج و اسپتال کا بل مغربی بنگال اسمبلی میں پیش کیا جسے اکثریتی ووٹوں سے منظور کرلیا گیا ۔ لیکن بل میں کچھ تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے گورنر نے بل پر دستخط نہیں کیا ۔ 2011 میں حکومت تبدیل ہوگئی اور ممتا بنرجی کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد ترنمول کانگریس نے بھی کالج کو تحویل میں لینے کا وعدہ کیا ، مگر اقتدار کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود ترنمول کانگریس کی قیادت والی حکومت اس معاملہ میں خاموش ہے ۔



کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد ایوب قاسمی کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں یونانی کالج انتظامیہ کی جانب سے کئی بار وزیر اعلی ممتا بنرجی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ، مگر کامیابی نہیں مل سکی ۔ وزیر مملکت برائے صحت چندریما بھٹاچاریہ اور محکمہ صحت کے سکریٹری اور ترنمول کانگریس کے بڑے لیڈروں و ریاستی وزرا  سے ملاقات کی گئی اور سبھی نے صرف یقین دہانی کرائی مگر اب تک اس پر عمل نہیں ہوسکا ہے ۔ کالج کے پروفیسر دانش ظفر کے مطابق کالج کے پاس فنڈ کی کمی ہے ، دیگر ریاستوں کے مقابلے کولکاتہ یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے فیس بھی کم لی جاتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ریاست کے چار ہومیو پیتھ اور ایک آیورویدک کالج کو بھی اپنے تحویل میں لے چکی ہے ، لیکن یونانی میڈیکل کالج کو تحویل میں لینے سے گریز کررہی ہے ، جو حیران کن ہے ۔

یونانی میڈیکل کالج مغربی بنگال کا واحد یونانی میڈیکل کالج ہے ۔ اقتدار میں آنے سے قبل ترنمول کانگریس نے یونانی میڈیسن کو فروغ دینے کا وعدہ کیا تھا ، مگر دس سال کی مدت مکمل ہونے کے باوجود یونانی پیتھی انصاف ملنے اور ترقی کی راہ تک رہی ہے ۔ ایسے میں بنگال میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن سے پہلے حکومت کو یونانی کالج کا مسئلہ یاد آتا ہے یا نہیں ، یہ ایک بڑا سوال ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 06, 2020 04:51 PM IST