உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگال کے ٹاپ پولیس افسر ہمایوں کبیر نے دیا اپنے عہدے سے استعفی، دو دن پہلے ہی کیا تھا کچھ ایسا۔۔۔۔

     آئی پی ایس افسر ہمایوں کبیر نے ایسے وقت میں استعفی دیا جب انہوں نے کچھ دن قبل ہی "گولی مارو" متنازعہ نعرہ لگانے پر تین بی جے پی ورکروں کو گرفتار کیا تھا۔

    آئی پی ایس افسر ہمایوں کبیر نے ایسے وقت میں استعفی دیا جب انہوں نے کچھ دن قبل ہی "گولی مارو" متنازعہ نعرہ لگانے پر تین بی جے پی ورکروں کو گرفتار کیا تھا۔

    آئی پی ایس افسر ہمایوں کبیر نے ایسے وقت میں استعفی دیا جب انہوں نے کچھ دن قبل ہی "گولی مارو" متنازعہ نعرہ لگانے پر تین بی جے پی ورکروں کو گرفتار کیا تھا۔

    • Share this:
    بنگال میں ان دنوں مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کا اپنی پارٹی سے استعفی دیکر دیگر جماعتوں میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں آج ریاست کے ایک بڑے پولیس افسر نے اپنے عہدے سے استعفی دینے کے بعد اسمبلی الیکشن میں افسران کے امیدوار کے طور پر سامنے آنے کی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہے۔ آئی پی ایس افسر ہمایوں کبیر نے ایسے وقت میں استعفی دیا جب انہوں نے کچھ دن قبل ہی "گولی مارو" متنازعہ نعرہ لگانے پر تین بی جے پی ورکروں کو گرفتار کیا تھا۔

    آئی پی ایس افسر ہمایوں کبیر بنگال کے چند نگر کے پولیس کمشنر ہیں انہوں نے آج اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا جبکہ وہ اپریل کے مہینے میں ریٹائر ہورہے تھے۔ ہمایوں کبیر کے استعفی کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کا دامن تھام سکتے ہیں لیکن وہ سیاسی پارٹی کون سی ہوگی یہ کہنا مشکل ہے۔ ہمایوں کبیر کا شمار بنگال کے ٹاپ افسران میں ہوتا ہے۔ کبھی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی قریبی رہے ہمایوں کبیر ایک ایسے افسر ہیں جن پر ممتا بنرجی اعتماد کرتی رہی تھیں۔

    ممتا بنرجی کے بےحد قریبی اس آفیسر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو ترنمول پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ ممتا بینرجی کے قریبی ہمایوں کبیر کو اس وقت تنازعے کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں ایک پروگرام میں صاف طور پر کہا تھا کہ بنگال کا اقلیتی طبقہ مایوس کن پسماندہ زندگی گزار رہا ہے۔ اس بیان سے بنگال کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بیان کے بعد بی جے پی کے ساتھ ہمایون کبیر کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ہمایون کبیر نے اس تعلق کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: